خطبات نور — Page 612
612 کشمیر میں خطرناک قحط پڑا۔کافر تو سور بھی کھاتے ہیں۔ان کے باورچی خانہ کے اردگرد لوگ جمع ہو جاتے کہ شائد کوئی چھچھڑا مل جائے۔یہ حالت اضطراری تھی اس لئے مسلمان معذور تھے۔پندرہ بڑے بڑے غربا خانے تھے اور رئیس چار سیر گیہوں خرید کر سولہ سیر کے حساب سے دیتا مگر پھر بھی خدا ہی دے تو بندہ کھائے۔بندے کی کیا طاقت ہے کہ اتنی دنیا کی رزق رسانی کر سکے۔غرض اللہ تعالیٰ ایک قوم کو نعمتیں یاد دلاتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے۔أَوْفُوا بِعَهْدِى أَوْفِ بِعَهْدِكُمْ (البقرة (۳) مجھے سے جو عہد کیا تھا وہ پورا کرو تو میں وہ عہد پورا کروں گا جو تم سے کیا تھا۔اس کا ذکر پہلے آپکا ہے۔چنانچہ فرمایا فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنَى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة 3 یعنی تم میری ہدایت کے پیرو بنو تو میں تمہیں لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ زندگی دوں گا۔اس وقت کیسی مصیبت کے دن ہیں۔سات کروڑ کے قریب مسلمان کہلاتے ہیں۔چھ کروڑ کے کان میں قرآن بھی نہیں گیا۔ایک کروڑ ہو گا جو یہ سنتا ہے کہ قرآن ہے مگر اسے سمجھنے کا موقع نہیں۔پھر چند ہزار ہیں جو قرآن مجید با ترجمہ پڑھتے ہیں۔اب یہ دیکھو کہ عمل درآمد کے لئے کس قدر تیار ہیں۔میں نے ایک بڑے عالم فاضل کو دیکھا جن کا میں بھی شاگرد تھا۔وہ ایک پرانا عربی خطبہ پڑھ دیتے تھے۔ساری عمر اس میں گزار دی اور قرآن مجید نہ سنایا۔حالانکہ علم تھا، فہم تھا، ذہین و ذکی تھے ، نیک تھے ، دنیا سے شاید کچھ بھی تعلق نہ تھا۔پھر ان کی اولاد کو بھی میں نے دیکھا۔وہ بھی اسی خطبہ پر اکتفا کرتی۔میں نے آنکھ سے روزانہ التزام درس کا کہیں نہیں دیکھا۔ان بعض ملکوں میں یہ دیکھا ہے کہ کسی فقہ کی کتاب کی عبارت عشاء کے بعد سنا دیتے ہیں۔پس میں تمہیں مخاطب کر کے سناتا ہوں۔اللہ فرماتا ہے۔ہمارے فضلوں کو یاد کرو اور میرے عہدوں کو پورا کرو۔میں بھی اپنے عہد پورے کروں گا۔کبھی ملونی کی بات نہ کیا کرو اور گول مول باتیں کرنا ٹھیک نہیں۔حق کو چھپایا نہ کرو بحالیکہ تم جانتے ہو۔قرآن شریف میں دو ہی مضمون ہیں۔ایک تعظیم لامر الله لا إله إلا الله کے ساتھ مُحَمَّدٌ رَسُولَ اللهِ اس کلمہ توحید کی تکمیل کے لئے ہے۔دوم۔شفقت علی خلق اللہ۔اس مضمون کو کھول کر بیان فرماتا ہے کہ خدا کی تعظیم کے واسطے نمازوں کو مضبوط کرو اور باجماعت پڑھو۔آجکل تو یہ حال ہے کہ امراء مسجد میں آنا اپنی ہتک سمجھتے ہیں۔حرفت پیشہ کو فرصت نہیں۔زمیندار صبح سے پہلے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں اور عشاء کے قریب واپس آتے ہیں۔ایک وقت کی روٹی باہر کھاتے ہیں۔پھر واعظوں اور قرآن سنانے والوں کو فرماتا ہے کہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول