خطبات نور — Page 579
579 ایک دفعہ کا ذکر ہے ہم بالاخانہ پر رہتے تھے اور نیچے کے کمرے میں ہمارا کتب خانہ تھا۔میرے بھائی صاحب کتب خانہ میں گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ ایک ملاں کتابوں کی گٹھڑی باندھ رہا ہے۔وہ حیران سے رہ گئے کیونکہ اس پر ان کا بہت نیک گمان تھا۔اتنے میں وہ گٹھڑی چھوڑ کر بھاگ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد ایک کتاب لایا جس میں لکھا تھا۔کوئی ہزار چوری کرے ، ڈاکے ڈالے قتل کر دے، زنا کا مرتکب ہو یہ کلام پڑھ لے تو سب کچھ معاف ہو جاتا ہے۔اور اس کے نیچے لکھا تھا کہ ”ہر کہ دریں شک آرد کافر گردد"۔جو اس مسئلہ کے موافق ہونے میں شک کرے گا وہ کافر۔ماں نے کہا بے شک میں آپ کی کتابوں کی گٹھڑی چوری لے چلا تھا اور اس سے پہلے بھی کئی کتابیں چرائی ہیں۔مگر یہ کلام یہ دعا میں ہر روز کئی بار پڑھ لیا کرتا ہوں۔اب اس میں میرا کیا قصور ہے؟ اسی طرح بعض لوگ جب خدا کی رحمت اور مغفرت کی بعض بے سروپا روائتیں سن لیتے ہیں تو دلیر ہو جاتے ہیں۔مگر سب کا یہ حال نہیں۔میں نے بڑے بڑے نیک لوگ دیکھے ہیں۔ان میں سے ایک بزرگ کا ذکر ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کاشت کرتے تھے۔خدا رسیدہ تھے۔جب کوئی حکام سے سفارش کے لئے کہتے تو اپنی سادگی سے جس حال میں ہوتے چل پڑتے۔ایک دفعہ کسی غریب نے سفارش کے لئے عرض کیا۔اس وقت کھیت کو پانی دے رہے تھے۔اسی طرح کسی کندھے پر رکھے پاؤں گھٹنوں تک کیچڑ سے بھرے ہوئے کچہری میں چلے گئے۔تحصیلدار جس کے پاس گئے تھے اس نے بدگمانی سے کام لیا۔وہ سمجھا یہ مکار آدمی ہے۔اس نے جھڑک دیا۔آپ نے کہا اچھا! اب تم نے غصہ تو نکال لیا۔سفارش قبول کر لو۔تحصیلدار نے پرواہ نہ کی۔بلکہ کہا جاؤ جی تم جیسے کئی دیکھے ہیں۔آپ واپس چلے گئے۔ایک مولوی صاحب پاس بیٹھے تھے۔انہوں نے تحصیلدار کو یقین دلایا کہ یہ ایسا ویسا آدمی نہیں۔اس کے کہنے سننے سے تحصیلدار نے کہا اچھا بلا لاؤ۔وہ گئے اور عرض کیا۔میاں صاحب! آپ کو پہچانا نہیں۔فرمایا۔اب تو یہ معالمہ عرش تک پہنچ گیا۔اب وہاں سے موڑنا میرا کام نہیں۔انہوں نے کہا پھر کیا ہو گا؟ کہنے لگے تیسرے دن دیکھ لو گے۔آخر یوں ہوا کہ وہ ایک مقدمہ میں گرفتار ہو گیا۔تین برس بامشقت قید کی سزا ہوئی۔جیل خانہ سے تبدیل ہوئے۔اونٹ پر سوار کرایا گیا۔گرا اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔غرض نیکوں کو نیکی کی جزا اور بدوں کو بدی کی سزا ملتی ہے۔جزاء وسزا کا مسئلہ برحق ہے۔جو اللہ اور رسول کو مان کر پھر بھی جرائم پیشہ ہیں وہ تو بہ کر لیں تو اللہ ان پر اپنا فضل کرے گا۔رحمن کے پیارے جھوٹ اور لغو باتوں سے شریفانہ گزر جاتے ہیں اور جب ان کو اللہ تعالیٰ کی آیتیں