خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 564 of 703

خطبات نور — Page 564

564 معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی مشترکہ زبان اگر کوئی ہے تو محض عربی ہے۔خطبہ نکاح بھی عربی میں ہے۔حدیث میں تم نے پڑھا تھا کہ شادی لوگ کیوں کرتے ہیں؟ بعض اس لئے کہ عالی خاندان لڑکی ملنے سے اس کے ساتھ بہت سا مال آئے گا اور بعض لوگ مال کی پرواہ نہیں کرتے۔جمال پر لٹو ہوتے ہیں۔بعض قومیت پر مرتے ہیں۔ایک آدمی نے مجھ سے کہا کہ میری شادی کرا دیں۔میں نے اس سے دریافت کیا کہ تم شادی کیوں کرتے ہو ؟ کہنے لگا گھر بند رہتا ہے۔عورت گھر ہو گی تو دروازہ کھلا رہے گا۔اسی طرح ایک اور سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ محض روٹی پکانے کی خاطر شادی کرنا چاہتا ہے۔بعض کسی رنج پہنچنے سے رنج پہنچانے والے کی لڑکی سے شادی کر کے اپنا دل شاد کرنا چاہتے ہیں۔بعض اپنی لڑکی اس لئے دو سروں کو دیتے ہیں کہ اپنی لڑکی کے ذریعہ دوسروں کو گزند پہنچائیں۔غرض کہ بیسیوں قسم کے لوگ ہیں جو کسی خاص اپنے مطلب کو مد نظر رکھ کر شادی کرتے ہیں جن کو دینی اغراض سے بالکل ہی پرواہ نہیں ہوتی۔حالانکہ رسول کریم اور قرآن مجید کا منشاء صرف یہ ہے کہ شادیاں دینی اغراض پر مبنی ہوں۔شادی ہونے سے ایک مدرسہ کھل جاتا ہے۔لڑکی لڑکے کو ایسے ایسے کام کرنے پڑتے ہیں جن کی ان کو قبل از شادی ہرگز بھی خبر و واقفیت نہیں ہوتی۔پھر لڑکی کو تو ایسی جگہ جانا پڑتا ہے جہاں کے حالات سے وہ بالکل ناواقف ہوتی ہے۔ہندوستان میں لوگ عورتوں کو فرائض شادی و نکاح کے علم نہیں سکھاتے۔یہاں تک کہ حیض و نفاس تک کے امراض کی عورتوں کو خبر نہیں ہوتی کہ یہ کیا بلا ہے اور کس بلا کا نام ہے؟ تعلیم و تربیت عورتوں کی بہت کم رہ گئی ہے۔مرد چاہتا ہے کہ جیسا میں نے ہومر اور شیکسپئر اور اور لوگوں کے ناول پڑھے ہیں، میری بیوی بھی ایسی ہی ہو اور ایسے ہی ناز و نخرے میری عورت کو بھی آتے ہوں جیسے کہ اکثر ناولوں میں پڑھ چکا ہوں۔ہمارے مولا کو چونکہ یہ سب باتیں معلوم تھیں، اس لئے اس نے لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا (الروم:۳۳) فرمایا ہے یعنی شادی سے تم کو بڑا آرام ہو گا۔اور چونکہ عورتیں بہت نازک ہوتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان سے ہمیشہ رحم و ترس سے کام لیا جائے اور ان سے خوش خلقی اور حلیمی برتی جائے۔مجھے پنجاب اور ہند کی عورتوں پر خاص کر ترس آتا ہے کہ یہ بیچاری ہر ایک کام سے ناواقفیت رکھتی ہیں۔عرب کی عورتیں بڑی آزاد ہوتی ہیں اور وہ اپنے حقوق طلب کرنے میں بڑی ہشیار ہوتی ہیں۔پھر باوجود ان کے بہت ہی بے باک اور بے دھڑک ہونے کے کسی کو جرات نہیں کہ ان کو کوئی کچھ کہہ سکے یا ان پر کوئی حرف لا سکے۔اور فرمایا کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:۲۰) جہاں تک ہو سکے ان سے بھلائی کرو۔تم ان سے نیکی کرو پھر اللہ تعالیٰ تم کو اس کے عوض بہتر سے بہتر اجر دے گا۔