خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 562 of 703

خطبات نور — Page 562

562 ایک اور ہو گا تو دو ہو جائیں گے۔پھر اسی طرح اس نے پچاس تک حساب لگالیا۔میری بیوی نے ہنس کر کہا کہ تم نے اس کو ایک ہی روپیہ دیا ہے اور وہ تو پچاس روپے کا خرچ سوچ بیٹھی ہے۔میں نے کہا کہ یہ کنجوس ہے۔کسی کو بھی کچھ نہیں دے سکتی۔اگر کوئی اس سے کچھ مانگے گا تو یہ سوچے گی کہ میرے ایک روپیہ کا نقصان نہیں بلکہ پچاس کا ہوتا ہے۔اپنی آمدنیوں کے مطابق اپنے اخراجات رکھو۔کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد خراب ہو۔کیا کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی شخص اس کے لڑکے یا لڑکی کو بدی سکھائے، خراب کرے بد کار بنائے۔میرے بھی لڑکی ہے۔اس وقت میں اپنے آپ کو مخاطب کر رہا ہوں۔جب کوئی یہ نہیں چاہتا تو پھر دوسروں کی اولاد کو جو تمہارے سپرد ہے کیوں خراب ہونے کا موقع دیتے ہو۔کیا کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس کے ماتحت نافرمان ہوں۔جب یہ نہیں چاہتا تو کیوں نافرمانی کرتے ہو ؟ یہ لڑکے جو اپنے آفیسروں استادوں کی نافرمانی کرتے ہیں اور طرح طرح کی بدعتیں کرتے ہیں، اگر یہ صاحب اولاد ہوں اور ان کی اولاد بدی، نافرمانی کرے تو ان کو معلوم ہو کہ کس قدر دکھ ہوتا ہے۔جب ہم اپنے ماتحتوں کو اپنا فرمانبردار دیکھنا چاہتے ہیں تو ہم کو چاہئے کہ جس کے ہم ماتحت ہیں اس کے فرمانبردار ہوں۔کیا کوئی چاہتا ہے کہ ہمارا مال کوئی شخص دھوکہ سے کھالے۔ہم یہ ہرگز پسند نہیں کرتے کہ کوئی ہم کو دھوکہ دے یا ہم کسی کا دھو کہ کھائیں۔اس لئے ہم کو بھی چاہئے کہ کسی کو دھوکہ نہ دیں۔جہاں کسی کے دھو کہ کھانے کا موقع ہو وہاں اپنے آپ کو بچائیں۔إنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَايِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔اللہ تعالٰی عدل کا حکم دیتا ہے۔جو بات تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے دوسروں کے لئے کیوں پسند کرتے ہو؟ وہ تم کو برائیوں سے روکتا ہے اور ہر قسم کی بغاوت سے روکتا ہے۔تم کو وعظ کرتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔( بدر جلد ۱۳ نمبر ---۶ / مارچ ۱۹۱۳ء صفحه ۸) *-*-*-*