خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 559 of 703

خطبات نور — Page 559

559 کرنے کے لئے دوسرے کو صبر سکھاؤ اور خود بھی صبر کرو۔یہ سورۃ اگر تم نے سمجھ لی ہے تو دوسروں کو بھی سمجھاؤ اور برکت پر برکت حاصل کرو۔میں چاہتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو۔اس کے ملائکہ سے نبیوں اور رسولوں سے محبت کرو اور کسی کی بے ادبی نہ کرو۔تم کو اللہ تعالیٰ نے بڑی نعمت عطا کی ہے۔حضرت صاحب کا دنیا میں آنا معمولی بات نہیں۔اس طرح یہاں بیٹھے ہو۔یہ انہیں کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔دعائیں بہت کرو۔اللہ تعالیٰ تم کو دوسروں تک حق پہنچانے کے لئے توفیق دے۔یہ مسجد میرے نام بنی ہے مگر میں دیکھتا ہوں یہ کس قدر تنگ ہے۔اس مسجد نور کو بڑھاؤ۔مگر نیکی کے لئے اس میں مدرسہ بناؤ مگر قرآن شریف کا۔ایک مدرسہ یہاں ہے اس کی طرف تو ہمارے دوستوں کی بھی بہت توجہ ہے۔گورنمنٹ بھی مدد دیتی ہے۔اس کے لئے ہر قسم کا سامان اور مکان بھی اچھا ہے مگر مدرسہ احمدیہ کے لئے کوئی نگرانی تک بھی نہیں۔کوئی اس طرف توجہ نہیں کرتا۔لڑکوں کی کتابوں اور کپڑوں تک کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔مگر کچھ لوگ چلے آتے ہیں۔وہ رات کے کپڑے، قرآن سب سے محروم رہتے ہیں۔چند روز بھٹک کر تم کو بد دعائیں دیتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔میں نے چند آدمیوں سے ایک دن کہا تھا کہ اس قسم کے آوارہ لوگوں کے لئے کوئی تجویز کرو۔انہوں نے ایک کمیٹی بنائی مگر صرف مجھ کو خبر پہنچانے کے لئے کہ ہم نے کمیٹی بنائی ہے، عمل کرنے کے لئے نہیں۔دعا کرو کہ یہاں کے رہنے والوں کے دل دردمند ہوں۔جو یہاں آئیں وہ ابتلاء میں نہ آئیں۔یہاں تین قسم کے طالب علم آتے ہیں۔اول مدرسہ انگریزی کے طالب علم۔ان کے لئے مکان کتاب ہر قسم کا انتظام ہے۔دوسرے مدرسہ احمدیہ کے لئے۔ان کی تعداد مدرسہ انگریزی کے مقابلہ میں بہت کم ہے مگر ان کا انتظام کچھ نہیں۔تیسرے سب سے کم وہ جو آوارگی کے لئے یہاں آجاتے ہیں۔تم سے کہنے کا منشاء ان کی شکایت نہیں بلکہ مدعا یہ ہے کہ تم ہمت کرو گے تو کام نکلے گا۔حضرت صاحب کی کتابوں کی اشاعت کرو۔ایک شخص مکان بنانا چاہتا ہے۔اس کے لئے بھی میں کہتا ہوں۔خدا تعالیٰ کسی کا قرضہ نہیں رکھتا۔وہ تمہارا محتاج نہیں۔تم سے جو کام لیا جاتا ہے اس کا منشاء یہ ہے کہ تم کو نفع زیادہ حاصل ہو۔صحابہ کرام نے جو کچھ خرچ کیا وہ اب تک واپس کیا جا رہا ہے اور قیامت تک واپس ہو تا رہے گا۔میں تمہارے لئے دعائیں کر چکا ہوں اور کرتا رہتا ہوں۔تم بھی دعاؤں کی بہت عادت ڈالو۔دعائیں بہت کرو مگر خد اتعالیٰ کو آزمانے کے لئے دعائیں نہ کرو۔خطبہ ثانیہ میں فرمایا۔