خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 535 of 703

خطبات نور — Page 535

535 اپنی بیوی سے زنا کر سکتے ہو۔کہا کہ غیر کی لڑکی کو خراب کرنا اچھا نہیں۔میں نے کہا کہ تم نے خراب کا لفظ بولا ہے۔بھلا یہ تو بتاؤ جو لوگ تمہارے یہاں زنا کرنے کے لئے آتے ہیں کیا ان کے نزدیک وہ غیر کی لڑکی نہیں ہوتی؟ قیامت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا أُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ (القيامة:٣)۔اگر جزاء سزا نہ ہوتی تو نفس لوامہ تم کو ملامت ہی کیوں کرتا؟ نفس لوامہ قیامت کا ثبوت ہے۔کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم ہڈیوں کو جمع نہیں کر سکتے ؟ اور ہڈیاں تو الگ رہیں ہم تو پوروں کی ہڈیوں کو بھی جمع کر دیں گے بَلَى قَادِرِينَ عَلَى اَنْ نُّسَوِيَ بَنَانَهُ۔ہر ایک آدمی جب بدی کرتا ہے تو وہ اس کو بدی سمجھتا ہے تب ہی تو اس کو غالنا چھپ کر کرتا ہے۔ایک شہر میں ایک بڑا آدمی تھا۔مجھ سے اس کی عداوت تھی۔مجھے خیال آیا میں اس کے پاس گیا۔وہاں لوگ جمع تھے۔جوں جوں لوگ کم ہوتے جاتے میں آگے بڑھتا جاتا تھا۔جب سب لوگ چلے گئے اور دو آدمی ایک اس کا منشی اور ایک شخص جو کہ میرے دوست تھے، رہ گئے تو اس نے میری طرف دیکھا اور کہا آج آپ کیسے آگئے ؟ میں نے کہا کہ میں اس لئے آیا ہوں کہ آپ لوگوں کو نصیحت کرنے والا کوئی نہیں۔کوئی ناصح تو آپ کو نصیحت نہیں کر سکتا کیونکہ آپ بڑے آدمی ہیں۔مگر ہر ایک بڑے آدمی کے لئے اس کے شہر میں کھنڈرات اس کے لئے ناصح ہوتے ہیں۔کیا آپ کے پاس کوئی ایسی یادگار نہیں۔اس نے کہا کہ مولوی صاحب! میرے آگے آئیے۔میں بہت آگے بڑھا۔وہ مجھ کو اس کھڑکی کے بالکل پاس لے گیا جس میں بیٹھا کرتا تھا۔مجھے کہنے لگا کہ اور آگے ہو جائیے۔میں اور آگے بڑھا۔اس نے پھر کہا کہ اور آگے ہو جائیے۔اور آگے تو کیا ہوتا۔میں نے اس کھڑکی میں اپنے سر کو بہت قریب کر دیا۔اس نے کہا کہ یہ جو آپ کے سامنے ایک محراب دار دروازہ نظر آتا ہے اس کا مالک میری قوم کا آدمی تھا اور وہ اتنا بڑا شخص تھا کہ ایک قسم کی سرخ چھتری جب وہ گھوڑے پر سوار ہو کر چلا کرتا تھا تو اس کے اوپر لگا کرتی تھی اور میں سیاہ بھی نہیں لگا سکتا۔اب اس کی بیوی میرے گھر میں برتن مانجھنے پر ملازمہ ہے۔یہ بھی سن لیجئے کہ میں اپنے اس تخت کو چھوڑ کر جو آپ کے سامنے پڑا ہوا ہے، ہمیشہ اس کھڑکی میں بیٹھا کرتا ہوں۔مگر اس تخت کو چھوڑنے اور اس کھڑکی میں بیٹھنے کی حقیقت مجھے آج ہی معلوم ہوئی ہے۔پھر جب کچہری کا وقت ہو گیا میں اسی جوش میں کچری گیا۔رئیس شہرا کیلا تھا۔میں نے وہی بات کہی تو رئیس نے مجھے ایک قلعہ دکھلایا اور کہا کہ یہ اس شہر کے اصل مالک کا ہے جواب کسی ذریعہ سے ہمارے قبضہ میں آگیا ہے۔پھر اس نے کہا کہ یہ پہاڑ جو آپ کے سامنے موجود ہے اس کا نام دھارا نگر ہے۔اس پر اتنا