خطبات نور — Page 43
43 آدمی گفتگو کرنے اور بولنے میں کیسا ہی آزاد اور دلیر کیوں نہ ہو لیکن جب کوئی بیماری آتی ہے تو دل چھوٹ چھوٹ جاتا ہے مگر طبیب کے کہنے سے کہ تم اچھے ہو جاؤ گے ، نئی جان اور طاقت آجاتی ہے۔جی کا گھٹنا تسلی سے بدل جاتا ہے۔اس نکتہ معرفت کو سوچو۔ایک خدا ہے۔یقینا خدا ہے۔پس جن کو وہ تسلی دیتا ہے اور جن سے ہم کلام ہوتا ہے، ان کی سنتا اور اپنی سناتا ہے۔ان کو کیسا اطمینان، کیسی راحت اور سکینت اور جمعیت خاطر ملتی ہے۔یورپ کے بڑے بڑے لائق فلسفہ دانوں کی خود کشی کا کیا سر ہے ؟ یہی کہ ان کو اطمینان اور سکینت مل نہیں سکتی کیونکہ خدا پر ایمان نہیں ، وہ ایمان جو دکھ اور مصیبت کی گھڑیوں میں ایک لذیذ رفیق ہو تا ہے۔یاد رکھو جو ایمان اور یقین قرآن لایا ہے، فطرت انسانی کی سیری اور غذا اسی میں ہے۔کسی قوم کسی مذہب و ملت کسی کتاب میں یہ لذیذ ایمان نہیں ہے جس کے ذریعہ دکھوں اور حزنوں کی ساعتوں میں انسان کو خدا کی آواز میں راحت پہنچاتی اور تسلی دیتی ہیں۔جیسے مریض کو ڈاکٹر کہتا ہے کہ تو اب غم نہ کھا تیری مرض دور ہو چلی اور تو اچھا ہے اور مریض ایک تسلی حاصل کر لیتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ شیریں آوازیں خدا کی کان میں آتی ہیں۔مگر بات وہی ہے کہ تقویٰ اختیار کرو۔نامرد عورت اور مرد کے تعلقات کی لذت کو کیا سمجھ سکتا ہے۔اسی طرح پر خدا سے دور اور اس کی صفات سے حیا نہ کرنے والا بے حیا کیا سمجھ سکتا ہے کہ خدا کی راحت رساں آواز کیا ہوتی ہے؟ ہر وقت اللہ کی صفات کا کپڑا پہن لینا۔یہی وہ بات ہے جو نئی زندگی نئی طاقت اور نئی روح نیا دل عطا کرتی ہے۔اسوۃ المتقین کو دیکھ لو۔خدا تعالیٰ کی ساری راست بازی اور ایک ہدایت کا مجسم نمونہ ہے۔دشمنوں کے سانپوں اور بچھوؤں نے کیسے گھیرا ہے۔ایک سوراخ سوئی کے برابر بھی نکلنے کو نہیں۔مگر دیکھتے ہو کہ کیسا صاف اور کشادہ راستہ ملا۔شَاهَتِ الْوُجُوهُ کی ایسی مٹی پھینکی کہ بھونڈے اور اندھے ہو گئے اور وہ مکہ کا نکالا ہوا بیابان مدینہ کا سرگردان ، نصرت الہی کا تاج پہنتا ہے۔اللَّهُمَّ صَلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ - یہ ایک سبق ہے۔اسی طرح اللہ سے انس لگاؤ۔اللہ تعالیٰ کے منکر و نواہی سے بچو اور امر کی اطاعت کرو۔پھر ایسی مدد کرے گا جو اسوۃ المتقین کی اس نے کر کے دکھائی۔اے میرے دوستو! جن کو اللہ کے فضل و کرم سے موقع ملا ہے کہ وہ امام المتقین کے موعود اور اس پر سلام پہنچائے ہوئے کے نمونہ کے پاس بیٹھے ہیں۔ہاں جن کو اس رحمت اور نور خدا کے عاشق قرآن کریم کے غیرت مند عاشق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے شیدا کی صحبت نصیب ہوئی ہے۔