خطبات نور — Page 507
507 تم شرک نہ کرو ، چوری نہ کرو بد کاری نہ کرو۔بد کاری آنکھ کی بھی ہوتی ہے ، بد کاری کان کی بھی ہوتی ہے اور بد کاری زبان کی بھی ہوتی ہے۔کسی بدکاری کے بھی نزدیک نہ جاؤ۔کسی پر بہتان نہ باند ھو۔ابو داؤد میں ایک حدیث آئی ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وبارک وسلم نے فرمایا کہ تمہاری طبائع ، خواہشات ، چال چلن، لباس، خوراک، تربیت، پرورش سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں اس لئے تم لوگوں میں اختلافات ہوتے ہیں۔تم ایسے اختلافات کو مجھ تک نہ پہنچایا کرو۔ان سے میرا دل دکھی ہوتا ہے۔پس تم کو میں بھی اسی طرح کہتا ہوں کہ ایسی باتیں مجھ تک نہ پہنچاؤ۔مگر تم پہنچاتے ہو اور میرا دل دکھاتے ہو۔تم میں بعض شریر گندے اور ناپاک لوگ ہیں وہ تمہیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ان میں بغض اور کینہ کا مرض ہے۔وہ بد قسمت ہیں۔وہ بہت بد قسمت ہیں۔انہیں چاہئے کہ توبہ کریں اور جلد توبہ کریں۔تم لوگ تفرقہ کو چھوڑ دو اور جھگڑے سے منہ موڑ لو۔کوئی تمہارا اختلافی مسئلہ نہیں جس کا اللہ تعالیٰ کے محض فضل و کرم اور اس کی تعلیم سے میں فیصلہ نہیں کر سکتا۔تم اکثر جاہل ہو۔خدا نے مجھے علم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے نیکی کی راہ پر آگہی دی ہے۔تم میں گندے باہم لڑانے والے بھی ہیں اور وہ سخت گندے ہیں۔وہ اس حکم الہی سے غافل ہیں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا تَنَازَعُوا (الانفال:۴۷) اور آپس میں جھگڑا نہ کر۔فَتَفْشَلُوا (الانفال (۳۷) پس بودے ہو جاؤ گے۔وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ (الانفال:۴۷) اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی۔تم نے مجھے دکھ دیا ہے۔تمہاری تحریریں میں نے پڑھی ہیں اور ان سے مجھے سخت رنج پہنچا ہے۔تم میں سے بعض چھوٹے چھوٹے لڑکے مجھ بڑھے کو سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ان سے خبردار رہو۔اور وہ آپ خود بخود بلا اجازت مخلوق کے واعظ بنتے ہیں اور جوش بھرے کلمات منہ سے نکالتے ہیں۔ان سے میرا دل بہت رنجیدہ ہے کیونکہ انہوں نے مجھے بہت دکھ دیا ہے۔غرض آپس میں لڑائیاں چھوڑ دو۔کینے چھوڑ دو۔اگر دوسرا کوئی تمہیں کچھ کہے تو اس کی باتوں پر صبر کرو۔ایسا نہ کرو کہ وہ تمہیں ایک ورق لکھے تو تم اس کے جواب میں چار ورق لکھو۔صبر کے سوائے کبھی لڑائی ختم نہیں ہوتی۔میں نہیں جانتا کہ میرا مرید کون ہے۔میرا مرید وہی ہے جو ان معاہدات پر عمل کرتا ہے جو اس نے میرے ساتھ کئے ہیں۔میرا مرید وہی ہے جو ان باتوں پر عمل کرے جو حضرت صاحب نے حکم دیئے تھے۔بعض لوگ صرف تماشا کے طور پر باتیں سنتے ہیں وہ بد قسمت ہیں۔مجھے کوئی غیب کا علم نہیں۔میرا زخم باجرے کے دانہ کے برابر ہے۔میرے گیارہ دوست ڈاکٹروں نے بڑے بڑے زور سے علاج کیا ہے مگر وہ اب تک اچھا نہیں ہوا۔میں بچپن سے شرک سے بیزار لا إله إلا الله کا بدل معتقد اور زبان سے قائل ہوں۔اللہ تعالیٰ اس خاندان پر رحم کرے جس سے میں