خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 497 of 703

خطبات نور — Page 497

3 با 497 خطبہ ثانیہ إن الله يأمر بالعدل والْإِحْسَانِ انصاف کرو یہ اللہ کا حکم ہے۔دیکھو اگر تم کسی کو روپیہ دو اور وہ دھوکہ دے کر لے کیا تم پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہارے ساتھ دھو کہ کرے؟ تم کسی کو ملازم رکھو اور وہ ستی سے کام کرے تو کیا تم پسند کرتے ہو؟ اگر نہیں تو پھر تم دوسروں کے ساتھ کیوں بدی کرتے ہو ؟ میں نے دیکھا ہے سردی کا موسم ہے اور سرد ہوا چل رہی ہے۔بوندا بوندی ہو رہی ہے۔ایک مزدور چوکیدار کہتا ہے۔خبردار ہوشیار۔وہ باہر پھرتا ہے۔پھر کیسی افسوس اور تعجب کی بات ہے کہ وہ چند پیسوں کے لئے اتنا محتاط اور اپنے فرض کو ادا کرتا ہے اور ہم خدا کے بے انتہا فضلوں کو لے کر بھی تہجد کے لئے نہ اٹھیں۔پھر کوئی ہمیں گالی دے، بہتان باندھے تو ناپسند کرتے ہیں۔پھر دوسروں پر کیوں بہتان باندھیں۔دوسروں کے گھر کی فحش باتیں کیوں سنتے ہو ؟ پھر تاکید ہے اِبْتَدَى ذِي الْقُرْنِی۔بھائی ہے بہن ہے، چاہے ماں باپ اور بیوی کے رشتہ دار۔يَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ جو بدیاں تمہاری ذات میں ہیں یا دوسروں پر اثر کرتی ہیں، ان سے رکو۔پھر بغاوت سے منع کیا۔بادشاہوں اور حکام کی مخالفت نہ کرو۔یہ باتیں کیوں سکھاتا ہے؟ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقره:۳۳)۔تم جانتے ہو کہ میں کس تکلیف سے آیا ہوں۔صرف تمہاری بھلائی چاہتا ہوں۔تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا۔جس کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتا ہوں وہی بہتر بدلہ دینے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے میری طبیعت تو ایسی بنائی ہے کہ تمہارے اٹھنے اور سلام کا بھی روادار نہیں ہوں۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے کہ تم متقی بنو۔آمین الحکم جلد ۱۵ نمبر ۲۱ ۲۲۔۔۔۔۔۷ ۱۴۴ / جون ۱۹۱۱ء صفحہ ۶) ⭑-⭑-⭑-⭑