خطبات نور — Page 496
496 نامہ ہو گا۔بہت سے افعال ہیں جن کی بابت لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ قانون قاعدہ اور تحریر کے خلاف ہے۔یہاں سے کیسی نصیحت ملتی ہے کہ جب قوم، برادری اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی اچھے نتائج انہیں کرتی تو اللہ تعالی کی کتاب اس کے قوانین اور قواعد کے خلاف کر کے انسان کب سر خرو ہو سکتا ہے؟ یہ تمام امور انسان کے عقائد کے متعلق ہیں۔جب عقائد کی اصلاح ہو جاوے تو انسان کی عملی حالت پر اس کا اثر پڑتا ہے۔فرمایا وَاتَّى الْمَالَ عَلى حُبّه (البقرة:۱۷۸) مال کو دے کہ اس کو محبت ہے یا خدا کی محبت کے لئے رشتہ داروں کو دے۔رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرنا بڑے بہادروں اور پاک بندوں کا کام ہے۔کہیں شادی غمی، ناطہ رشتہ اور سلوک بدسلوک میں رنج پیدا ہو جاتا ہے۔پھر بہت سے مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں۔اس واسطے ان سے سلوک بڑا بھاری کام ہے۔پھر یتامیٰ سے سلوک کرو۔مساکین جو بے دست و پا ہیں ان کی خبر گیری کرے۔ایک جلد ساز ہے اس کے پاس تراش نہیں یا اور ضروری سامان نہیں۔موچی کے پاس چھڑا نہیں۔لوہار کے پاس ہتھوڑا نہیں۔یہ سب مساکین میں داخل ہیں۔وَابْنَ السَّبِيلِ مسافروں کو دو۔پھر سَائِلِینَ کو دو۔کیا خبر ہے ان کے پاس ہے یا نہیں، تم انہیں دو۔وَفِي الرِّقَابِ غلاموں کے آزاد کرنے میں خرچ کرو۔دیوانی کے مقدمات میں قیدی ہو جاتے ہیں، ان کو چھوڑانے میں خرچ کرو۔اس کے بعد اَقَامَ الصَّلوةَ اور آتَى الزَّكَوةَ ہے۔نماز مومن کا معراج ہے۔نماز اللہ کی تسبیح و تحمید ہے۔اللہ کے حضور دعا ہے۔اس کے حضور جھک کر عرض کرنا ہے۔اپنے محسن مربی خصوصاً خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کے لئے دعا ہے۔پھر زکوۃ ہے۔پھر وہ جو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں۔پہلا اقرار تو قَالُوا بَلی (الاعراف:۱۷۳) میں ہوا ہے۔جب اللہ تعالیٰ کو اپنا رب مانتا ہے تو چوری کیوں کرتا ہے؟ بدذاتی کیوں کرتا ہے؟ جاہل ہے، پھر مسلمان کہلا کر اسلام کے دعویٰ سے تمام نیکیوں کا اقرار کرتا ہے۔الْبَاسَاء انسان کو بیماری میں مشکلات آتے ہیں۔مجھ پر تو اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہوا ہے۔مجھے تو پتہ بھی نہیں لگا۔گویا سویا ہوا تھا بیدار ہو گیا۔مومن اور نیک مرد وہی ہیں جو بیماری غریبی میں نافرمان نہیں ہوتے۔مقدمات میں سچائی کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔یہی لوگ راستباز اور متقی ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ تمہیں متقی کرے۔جس قدر مجلس میں بیٹھے ہیں خدا ان سے راضی ہو اور ناراض نہ ہو۔تم بھی خدا تعالیٰ سے راضی ہو اور وہ دستگیری کرے۔کبھی اس کا شکوہ نہ کرو۔