خطبات نور — Page 491
491 خطرات نور سب ہمارا ہی ہے۔اور وہ تقویٰ اور صرف تقویٰ سے اپنا بنتا ہے۔اس لئے اگر چاہتے ہو کہ اللہ تمہارا ہو جاوے تو ثم تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ایسی دولت ہے کہ اس سے بڑی بڑی مرادیں حاصل ہوتی ہیں۔ہر شخص کی فطرت میں ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ ہو اور وہ عظیم الشان ہو۔متقی کے لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (البقرة :۱۹۵) پس اللہ کی معیت سے بڑھ کر اور کیا چاہئے؟ پھر ہر شخص کی فطرت میں ہے کہ کوئی عظیم الشان اس سے محبت کرے۔اور اللہ تعالی منتقلی سے آپ محبت کرتا ہے جیسا کہ فرمایا يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (ال عمران (۷۷) جو اللہ تعالیٰ کا محبوب ہو جاوے اسے کسی اور کی حاجت کیا؟ پھر ہر شخص کو ضرورت ہے کہ اسے رزق ملے اور وہ کھانے پینے دوا علاج اور تیماردار، غرض بہت کی ضروریات کا محتاج ہے۔مگر اللہ تعالیٰ متقی کو بشارت دیتا ہے يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: متقی کو ایسے طریق پر رزق ملتا ہے جو اسے وہم و گمان بھی نہیں ہو تا۔پھر انسان مشکلات میں پھنستا ہے اور ان سے نجات اور رہائی چاہتا ہے۔متقی کو ایسی مشکلات سے وہ آپ نجات دیتا ہے يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا (الطلاق:۳) ہر قسم کی تنگی سے وہ آپ نجات دیتا ہے۔یہ متقی کی شان ہے۔پھر اللہ تعالیٰ متقی کو آپ پڑھا دیتا ہے۔اگرچہ ہمارے ایک دوست ان معنوں کو پسند نہیں کرتے مگر میں نے غور کیا ہے تو یہ بالکل درست ہے وَاتَّقُوا اللهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللهُ (البقرة: ۲۸۳)۔پھر ہر قسم کے دکھوں کو سکھوں سے تقویٰ ہی بدل دیتا ہے يَجْعَل لَّهُ مِنْ اَمْرِهِ يُسْرًا (الطلاق:٥)۔پھر جب متقی انسان ان ثمرات کو پاتا ہے تو میرے دوستو! سب کو تقویٰ اختیار کرنا چاہئے۔رزق کے لئے ، تنگی سے نجات کے لئے تقومی کرو۔سکھ کی ضرورت ہے تقویٰ کرو۔محبت چاہتے ہو تقویٰ کرو۔سچا علم چاہتے ہو تقویٰ کرو۔میں پھر کہتا ہوں تقویٰ کرو۔تقویٰ سے خدا کی محبت ملتی ہے۔وہ اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے۔دکھوں سے نکال کر سکھوں کا وارث بنا دیتا ہے۔علوم صحیحہ اس کے ذریعہ ملتے ہیں۔میں نے اس بیماری میں بڑے تجربے کئے ہیں اور ان سب تجربوں کے بعد کہتا ہوں۔اللہ کے ہو جاؤ۔اللہ کے سوا کوئی کسی کا نہیں۔یہ میری وصیت ہے۔پس تقویٰ کرو۔وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ مومن کو چاہئے کہ جو کام کرے اس کے انجام کو پہلے سوچ لے کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ انسان غضب کے وقت قتل کر دینا چاہتا ہے۔گالی نکالتا ہے مگر وہ سوچے کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟ اس اصل کو مد نظر رکھے تو تقویٰ کے طریق پر قدم مارنے کی توفیق ملے گی۔نتائج کا خیال کیو نکر پیدا ہو۔اس لئے اس بات پر ایمان رکھے کہ وَاللهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ جو کام