خطبات نور — Page 410
410۔الْمَسْكَنَةُ (البقرة: ٣٣) كا فتویٰ ان پر چل گیا۔وہی یہود جو تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے دنیا میں ان کے رہنے کے لئے کوئی اپنی سلطنت نہیں۔جدھر جاتے ہیں بندروں کی طرح دھتکارے جاتے ہیں۔یہ کیوں؟ وَ مَنْ تُبَدِّلُ نِعْمَتَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ اب یہاں بنی اسرئیل نہیں بیٹھے۔سب مسلمان ہی ہیں۔مسلمانوں پر خدا نے بنی اسرائیل سے بڑھ کر انعامات کئے۔ان کو نہ صرف بنی اسرائیل کے ملکوں کا وارث کیا بلکہ جبل الطارق پر یہی حکمران تھے۔مشرق میں کاشغر، بخارا سے چائنا تک پہنچے۔لیکن جب مسلمانوں نے خدا کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو جبل الطارق جبرالٹر بن گیا۔کاشغر وغیرہ پر روس کی حکومت ہو گئی۔گنگا کا کنارا اور سندھ انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ایسا کیوں ہوا؟ جو بنی اسرائیل نے کیا وہی مسلمانوں نے کیا۔خدا نے ان کو ایسا دین دیا جو کل دینوں سے بڑھ کر ہے۔سے بڑھ کر ہے۔ایسی کتاب دی جو کل کتب الہیہ کی جامع ہے۔ایسا نبی دیا جو تمام انبیاء کا سردار ہے (احمدیوں کو تو وہ امام دیا جو تمام اولیاء کا سردار ہے)۔بنی اسرائیل کے فرعون کو تو سمندر میں غرق کیا مگر ہمارے نبی کریم کے فرعون (ابو جہل) کو باوجودیکہ ہم کتابوں میں یہی پڑھتے آتے تھے اِمَّا اَنْ لا يَكُونَ فِي الْبَحْرِ اِمَّا اَنْ يَّغْرِقَ ، خشکی میں غرق کر کے دکھا دیا۔کس قدر افسوس ہے کہ مسلمان ان نعمتوں کی بے قدری کر رہے ہیں۔اس کتاب کی جس کو ذلِكَ الْكِتَابُ فرمایا یعنی اگر کوئی کتاب ہے تو کی ہے، کچھ پروا نہیں کی جاتی۔اس میں اس قدر علوم ہیں کہ شاہ عبد العزیز فرماتے ہیں کتابیں جمع کرنے کے لئے تین کروڑ روپیہ چاہیے۔یہ ان کے زمانے کا ذکر ہے۔اب تو اس قدر کتابیں ہیں کہ کئی کروڑ روپے بھی کافی نہ ہوں۔لیکن کئی مسلمان ہیں جو اس کے معمولی معنے بھی نہیں جانتے۔پھر خود پسندی خود رائی کا یہ حال ہے کہ نہ قرآن سے واقف نہ حدیث سے آگاہ۔نہ حفظ نفس، حفظ مال حفظ اعراض کے اصول سے باخبر۔مگر اپنی رائے کو کلام الہی پر ترجیح دینے کو تیار۔قرآن کو امام و مطاع نہیں بناتے۔تم لوگوں نے دین کے لئے اپنے گھربار اپنے خویش و اقارب اپنے احباب وغیرہ کو چھوڑا ہے۔اگر تم بھی قرآن کی تعلیم حاصل نہ کرو تو افسوس ہے۔(چونکہ بارش شروع ہو گئی تھی اس لئے خطبہ میں ختم کرنا پڑا۔(بدر جلد ۹۸ نمبر ۴۶-۴۷-۹۰/ ۱۶۴ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱) ⭑-⭑-⭑-⭑