خطبات نور — Page 406
406 لئے ہے۔وہ بالکل اباحت کے رنگ میں آگئے ہیں۔اس کی وجہ زیادہ تر یہ ہے کہ ان کے ہادی خود ان کے محتاج ہیں۔اس کے بعد آپ نے اذان کا ترجمہ سنایا کہ اللہ اکبر چار بار کہا جاتا ہے گواہی کی حدود تک۔ہاں، زنا کے ثبوت کے لئے چار کی ضرورت ہے۔پس یہ شہادت کس قدر قوی ہے کہ خدا مستجمع جمع صفات کا ملہ تمام قسم کے نقصوں ، عیبوں سے مزہ ذات سب سے بڑی ہے۔اب ہم کو دیکھنا چاہئے کہ ہم کہاں تک خدا کی آواز مخلوق کی آواز پر مقدم کرتے ہیں۔پھر حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کی شہادت ہے کہ ہمارے کام اس کی گورنمنٹ کی ہدایت کے مطابق ہوں گے۔پھر نماز کے لئے آنے کی تاکید ہے۔افسوس کہ مسلمان بہت کم اس کی پروا کرتے ہیں۔اول تو نماز پڑھتے ہی نہیں اور جو پڑھتے ہیں تو باجماعت کی پابندی نہیں۔حالانکہ رسول کریم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ جب نماز قائم ہو جاوے تو جماعت میں شامل نہ ہونے والوں کے گھر جلادوں۔امیر وضع کی پابندی پر مرتے ہیں۔مسجد میں آنا ہتک سمجھتے ہیں۔شاہ عبد العزیز کی مجلس میں ایک شخص داڑھی منڈا بیٹھا تھا۔کسی نے پوچھا کہ شاہ صاحب کے وعظ کا کچھ اثر نہیں ہوا؟ کہا ہوا ہے مگر وضع داری اجازت نہیں دیتی۔نماز پر آنا فلاح پر آنا یعنی تم مظفر و منصور ہو گے۔بدر جلد ۹ نمبر ۸ ---- ۱۶/ دسمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۳)