خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 397 of 703

خطبات نور — Page 397

397 خطبات و قسم کھانے والے مسلمانوں میں موجود ہیں۔اب تم بتاؤ کہ آریہ عیسائی کیا دیکھ کر مسلمان ہوں۔کیا قیامت کو ؟ قیامت تو مر کر دیکھیں گے۔تم مرنے سے پہلے بھی انہیں کچھ دکھاؤ۔دیکھو صحابہ کرام نے کیا پاک نمونہ دکھایا۔ہمت‘ استقلال جان شاری توحید کے لئے مال جان وطن چھوڑ دیا۔اپنے آقا کی اطاعت میں محویت پاکبازی تھی۔ان میں خود پسندی، خود رائی نہ تھی۔وہ حرام خور نہ تھے۔حلال طیب کھاتے تھے۔اس رکوع کے ابتداء میں فرماتا ہے۔تم مشرق مغرب کو فتح کر رہے ہو یہ نیکی نہیں۔نیکی تو اس وقت ہو گی جب اس فتمندی کے ساتھ اللہ پر تمہارا ایمان ہو گا۔اگر اللہ پر ایمان نہیں تو پھر تمہاری ہستی کیا ہے۔پھر یوم آخرت پر ایمان ہو۔جو لوگ کہتے ہیں ”دنیا کھائیے مکر سے روٹی کھائیے شکر سے" وہ بے ایمان ہیں۔دیکھو جب تک خشیت اللہ نہ ہو ، آخرت پر ایمان نہ ہو حرامخوری سے نہیں رک سکتے۔میں نے ریاستوں میں رہ کر دیکھا، وہاں نوشیروانی ہوا کرتی تھی۔ایک شخص عرضیاں سنایا کرتا تھا۔ایک اہل غرض نے اس عرضیاں سنانے والے کو سو روپیہ دیا کہ تم یہ عرضی اس ترتیب سے سنا دینا۔چنانچہ اس نے عرضی بڑی عمدگی سے سنائی اور کہا حضور ! بڑی قابل توجہ ہے اور ساتھ سو روپیہ رکھ دیا کہ اس نے مجھے رشوت کا دیا ہے۔رئیس کے دل میں عظمت بیٹھ گئی کہ یہ کیسا ایماندار آدمی ہے۔میں اسے جانتا تھا کہ وہ بڑا حرامخور ہے۔میں نے کہا یہ کیا؟ کہا موادی صاحب آپ نہیں جانتے۔یہ سو روپیہ ظاہر کر دیا۔اس سے پچھلا تو ہضم ہو جائے گا اور آئندہ کے لئے راہ کھل جائے گا۔یہ راجہ لوگ تو الو ہوتے ہیں۔ہم نے اس حیلہ سے اپنا الو سیدھا کر لیا۔دیکھو میرے جیسا شخص اگر خائن ہو جائے تو ہزاروں روپے کما سکتا ہے۔مگر آخرت پر ایمان ہے جو اس بات کا وہم تک بھی آنے نہیں دیتا۔مسلمانوں کو سمجھاتا ہے کہ فاتح ہونے میں بڑائی نہیں بلکہ ایمان باللہ و ایمان بالیوم الآخر میں بڑائی ہے۔پھر ملائکہ پر ایمان ہو جو تمام نیک تحریکوں کے مرکز ہیں۔پھر اللہ کی کتابوں پر اور اللہ کے نبیوں پر ایمان ہو۔پھر خدا کی راہ میں کچھ دے۔میں نے تجربہ سے آزمایا ہے جو کنجوس ہو وہ حق پر نہیں پہنچتا۔بعض دفعہ سخاوت والے انسان کے لئے کسی محتاج کے دل سے دعا نکلتی ہے۔”جا تیرا دونوں جہان میں بھلا اور پھر وہ عرش تک پہنچتی ہے اور اسے جنت نصیب ہو جاتا ہے۔ایک یہودی تھا، وہ بارش کے دنوں میں چڑیوں کو چو گاڈالا کرتا۔بزرگ ملاں تھا اس نے حقارت سے دیکھا۔اور یہ ملاں بڑی بد بخت قوم ہوتی ہے ایسا ہی گدی نشین۔ملا نمبردار کے ماتحت ہوتا ہے اور گدی نشین کو تو سب کچھ حلال ہے۔رنڈیاں ان کے دربار کی زینت ہیں۔نماز روزہ کو جواب دے رکھا ہے۔بزرگوں کے نام سے کھاتے ہیں۔خیر! ایک وقت آیا کہ وہ یہودی مسلمان ہوا۔وہ حج کو گیا۔وہاں