خطبات نور — Page 377
377 پڑھے ہوئے ہیں اس لئے تمہاری محبت کو اس محبوب کی محبت پر قربان کرتے ہیں۔اونی محبوبوں کو اعلیٰ محبوبوں پر قربان کرنے کا نظارہ ہر سال دیکھتا ہوں اس لئے ادنی محبت کو اعلیٰ محبت پر قربان کرتا ہوں۔مثلاً سڑک ہے جہاں درخت بڑھنے کا منشاء ہوتا ہے وہاں نیچے کی شاخوں کو کاٹ دیتے ہیں۔پھر درخت پر پھول آتا ہے اور وہ درخت متحمل نہیں ہو سکتا تو عمدہ حصے کے لئے ادنی کو کاٹ دیتے ہیں۔میرے پاس ایک شخص سردہ لایا اور ساتھ ہی شکایت کی کہ اس کا پھل خراب نکلا۔میں نے کہا کہ قربانی نہیں ہوئی۔چنانچہ دوسرے سال جب اس نے زیادہ پھولوں اور خراب پودوں کو کاٹ دیا تو اچھا پھل آیا۔لوگ جسمانی چیزوں کے لئے تو اس قانون پر چلتے ہیں مگر روحانی عالم میں اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اصل غرض کو نہیں دیکھتے۔علم کی اصل غرض کیا ہے؟ خشیت الله إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر:۲۹)۔علم پڑھو اس غرض کے لئے کہ لوگوں کو خشیت اللہ سکھاؤ۔مگر علم کی اصل غرض خشیت، تہذیب النفس تو مفقود ہو گئی۔ادھر کتابوں کے حواشی پڑھنے میں سارا وقت خرچ کیا جا رہا ہے مگر ان کتابوں کے مضمون کا نفس پر اثر ہو اس کی ضرورت نہیں۔میں رام پور میں پڑھتا تھا۔وہاں دیکھتا کہ لوگ مسجد کے ایک کونے میں صبح کی نماز پڑھ لیتے اور مسجد کے ملاں کو نہ جگاتے کہ رات بھر مطالعہ کرتے رہے ہیں، انہیں جگانے سے تکلیف ہو گی۔علم تہذیب نفس کے لئے تھا مگر لوگوں نے اسے تخریب نفس کا ہلی اور ستی میں لگا دیا۔دوسروں کی اصلاح کے دعویدار ہیں مگر خود اپنی اصلاح سے بے خبر۔بات کرتے جھوٹ پر جھوٹ بولتے ہیں مگر ساتھ ہی جھوٹوں پر لعنت بھی بھیجتے جاتے ہیں۔ایک اشتہار دیتے ہیں کہ دیکھو اشتہار والوں نے لوٹ لیا۔پر ہم جو کچھ کہتے ہیں یہ سب سچ ہے اور پھر اس پیرایہ میں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔پھر واعظوں کا بھی یہی حال ہے۔میں اپنے اندر بھی ایک مصیبت دیکھتا ہوں۔میرے لئے بھی دعا کرو۔اپنے لئے بھی اگر کسی بھائی کا کوئی عیب دیکھتے ہو تو تھوڑی سی قربانی کرو۔چالیس دن دعاؤں میں لگاؤ پھر کسی سے شکایت کرو۔خدا تعالیٰ نے صریحاً فرما دیا۔لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا (الحج:۳۸) قربانی کے سلسلہ میں خدا گوشت کا بھوکا نہیں بلکہ خدا کو پانے کے لئے تقویٰ ہے۔وہ ہمیں اپنے تک پہنچنے کا ایک طریق سکھاتا ہے کہ ادنی کو اعلیٰ پر قربان کر دو۔تقویٰ جبھی حاصل ہوتا ہے کہ مدح و ثناء میں غلو کو چھوڑ