خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 376 of 703

خطبات نور — Page 376

376 ذبح کرتا ہوں مگر وحی الہی سے حقیقت معلوم ہوئی کہ دنبہ ذبح کرنا چاہئے۔پس لوگوں کو سمجھایا کہ اے لوگو! تمہارے بزرگوں نے جو کچھ دیکھ کر یہ قربانی انسانی شروع کی اس کی حقیقت بھی یہی ہے کہ آدمی کی قربانی چھوڑ کر جانور کی قربانی کی طرف توجہ کرو۔اس کی برکت یہ ہوئی کہ ہزاروں بچے ہلاک ہونے سے بچ گئے۔کیونکہ انہیں ادنی کو اعلیٰ پر قربان کرنے کا سبق پڑھا دیا گیا۔یہ قربانی کا سلسلہ پرندوں چرندوں درندوں میں بھی پایا جاتا ہے۔پھر دنیوی سلطنتوں میں بھی، پھر دینی سلطنتوں میں بھی۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے امن کا وعظ شروع کیا۔رَبَّكَ فَكَبِّرُ (المدثر:) اور رَبُّكَ الْأَكْرَمُ (العلق) سے اس کی ابتدا ہوئی۔پھر لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ کی تعلیم بھی وَالرُّجْزَ فَاهْجُز (المدثر ) سے مشتق ہے۔یہ سیدھی اور صاف تعلیم تھی اور ساتھ ساتھ کہا جاتا تھا۔يُوتِكُمْ أجُورَكُمْ وَلَا يَسْتَلُكُمْ أَمْوَالَكُمْ (محمد:۳۷) یعنی ہمیں تمہارے مال نہیں چاہئیں بلکہ ہم خود بدلہ دیں گے۔اسی واسطے نبی کریم نے بھی فرمایا لَا اَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا (الشوری:۲۴)۔ہاں کیا مانگتا ہوں؟ إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى (الشوری: ۳۴) یعنی نیکیوں میں یا باہم جو رشتے ہیں ان میں محبت قائم کرو۔ابتدائی تعلیم میں بھی مالوں کا کہیں ذکر نہیں۔پھر اس تعلیم میں جب ترقی ہوئی تو فرمایا۔حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيْمَانَ وَ زَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات:۸) لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيْعًا مَّا الَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ (الانفال: ٢٣) وَكَرَّة إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ (الحجرات:۸)۔پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا سبق دیا۔پھر یہ رحم کیا کہ صحابہ کرام میں الفت کا بیج بو دیا۔اور یہ باہمی محبت حاصل نہ ہو سکتی تھی خواہ تمام زمین کے خزانے اس پر خرچ کر دیتے۔اس آیت کی رو سے مجھے یقین ہے کہ کم از کم اس آیت کے نزول تک جس قدر صحابہ تھے وہ آپس میں بھائی بھائی تھے۔اور یہ شیعہ کے خلاف نص صریح ہے۔پھر ان کی تعلیم جب یہاں تک پہنچ گئی تو پھر ان سے مال کی قربانی طلب ہوئی۔پھر مال سے ترقی کر کے جانوں کی قربانی شروع ہوئی اور یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ ہر قوم میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے لِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكَّاهُمْ نَاسِكُوهُ (الحج:٢٨)- میرا ایک دوست ہے۔اسے مجھ سے بہت محبت ہے۔محبت کے دنوں میں وہ مجھے دیکھتا کہ میں اکثر وقت اپنا حدیث کے پڑھانے میں خرچ کرتا ہوں۔وہ چونکہ مجھے زیادہ خوشحال دیکھنا چاہتا تھا اس لئے اس نے مجھے کہا کہ جتنا وقت آپ حدیث پڑھاتے ہیں اگر طب میں اس کا اکثر حصہ لگاؤ تو آرام پاؤ۔اس وقت میں نے سوچا کہ دو محبوبوں کا مقابلہ ہے۔ایک جس کا کلام حدیث میں پڑھاتا ہوں اور ایک یہ جو حدیث سے منع کرتا ہے۔میں نے اسے کہا تم سمجھتے ہوگے میں مان جاؤں گا۔دیکھو! ہم قربانی کا مسئلہ ย