خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 27 of 703

خطبات نور — Page 27

27۔جلوہ گر نہ ہوں گی۔پس جہاں ایک طرف عظمت الہی میں لگو دوسری طرف قربانیاں کر کے مخلوق الہی سے شفقت کرو اور قربانیاں کرتے ہوئے اپنے کل قومی کو قربان کر ڈالو اور رضاء الہی میں لگا دو۔پھر نتیجہ کیا ہو گا؟ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَر تیرے دشمن ابتر ہوں گے۔انسان کی خوشحالی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گی کہ اس کو آپ تو راحتیں ملیں اور اس کے دشمن ہلاک ہوں۔یہ باتیں بڑی آسانی سے حاصل ہو سکتی ہیں۔خدا کی تعظیم اور اس کی مخلوق پر شفقت۔نمازوں میں خصوصیت دکھاؤ۔کانوں پر ہاتھ لے جاکر اللہ اکبر زبان سے کہتے ہو مگر تمہارے کام دکھا دیں کہ واقعی دنیا سے سروکار نہیں۔تمہاری نماز وہ نماز ہو جو تَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (النحل) ہو۔تمہارے اخلاق، تمھارے معاملات عامیوں کی طرح نہ ہوں بلکہ ایک پاک نمونہ ہوں پھر دیکھو! کوثر کا نمونہ ملتا ہے یا نہیں۔لیکن ایک طرف سے تمہارا فعل ہے، دوسری طرف سے خدا کا انعام۔درود پڑھو۔آج کل کے دن عبادت کے لئے مخصوص ہیں۔وَاذْكُرُوا اللهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ (البقرة :۲۰۴)۔کل وہ دن تھا کہ کل حاجی ہر طبقہ اور ہر عمر کے لوگ ہوں گے۔دنیا سے نرالا لباس پہنے ہوئے عرفات کے میدان میں حاضر تھے اور لبیک لبیک پکارتے تھے۔تم سوچو اور غور کرو کہ تمھاری کل کیسی گذری۔کیا تم بھی خدا تعالیٰ کے حضور لبیک لبیک پکارتے تھے۔آج منی کا دن ہے۔آج ہی وہ دن ہے جس میں ابراہیم نے اپنا پاک نمونہ قربانی کا دکھلایا۔کوئی اس کی طاقت نہ رہی تھی جسے خدا پر قربان نہ کیا ہو۔نہ صرف اپنی بلکہ اولاد کی بھی۔یہ جمعہ کا دن ابراہیم کی قربانی اور مفاخر قومی کا روز ہے، جس میں عرب کے لوگ قبل اسلام بزرگوں کے تذکرے یاد کر کے فخر کیا کرتے تھے۔اس میں خدا کا ذکر کرو جیسے فرمایا۔فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَ كُمْ (البقرة:۳۰) خدا کے حضور ساری قوتوں کو قربان کرنے کے لئے خرچ کرو پھر دیکھو کہ تمھارے کام کیا پھل لاتے ہیں۔انسان خوشحالی چاہتا ہے اور دشمنوں کی ہلاکت۔خدا تیار ہے مگر قربانی چاہتا ہے۔اولاد پر نمونے دکھاؤ جیسے اسماعیل نے دکھایا۔پس نئے انسان بنو پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل تم کو کس طرح کی کوثر دیتا ہے اور تمہارے دشمنوں کو ہلاک کرتا ہے۔واخر دعوانا أن الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔۔الحکم جلد ۳ نمبر ۱۶-۱۵ مئی ۱۸۹۹ء صفحه ۳ تا ۵) کا حکم جلد ۳ نمبر ۱۷ - ۱۲ مئی ۱۸۹۹ء صفحه ۱تا۳)