خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 26 of 703

خطبات نور — Page 26

26 میں نے جو کچھ اب تک بیان کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیاوی کو ثر کا ذکر تھا پھر مرنے کے بعد ایک اور کوثر برزخ میں حشر میں صراط پر بہشت میں ، غرض کو ثر ہی کو ثر دیکھے گا۔اس کو ثر میں ہر ایک شخص شریک ہو سکتا ہے مگر شرط یہ ہے فَصَلِّ لِرَبِّكَ۔اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں لگو۔دیکھو اس آدم کامل کا پاک نام ابراہیم بھی تھا جس کی تعریف اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے وَ إِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى (النجم:۳۸) اور وہی ابراہیم جو جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبِ سَلِيمٍ (الصافات:۸۵) کا مصداق تھا، نے سچی تعظیم الہی کر کے دکھائی جیسے مولیٰ کریم فرماتا ہے۔وَ إِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا (البقرة: ۱۳۵) پھر کیا نتیجہ پایا۔اللى تعظیم جس قدر کوئی انسان کر کے دکھاتا ہے ای قدر ثمرات عظیمه حاصل کرتا ہے۔مثلاً حضرت ابوالملت ابراہیم کو دیکھو۔اس کی دعاؤں کا نمونہ دیکھو۔ہمارے سید و مولی، اصفی الاصفیاء، خاتم الانبیاء ان دعاؤں کا ثمرہ ہیں۔اَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلَّمْ وَ بَارِكْ عَلَيْهِ وَعَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے اور ضعیف تھے۔خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اولاد صالح عنایت کی۔اسمعیل جیسی اولاد دی۔جب جوان ہوئے تو حکم ہوا کہ ان کو قربانی میں دے دو۔ابراہیم کی قربانی دیکھو، بڑھاپے کا زمانہ دیکھو مگر ابراہیم نے اپنی ساری طاقتیں، ساری امیدیں، تمام ارادے یوں قربان کر دیئے کہ ایک طرف حکم ہوا اور معابیٹے کے قربان کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔پھر بیٹا بھی ایسا بیٹا تھا کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا بیٹا! إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ (الصافات:۰۳) تو وہ خدا کی راہ میں جان دینے کو تیار ہو گیا۔غرض باپ بیٹے نے ایسی فرمان برداری دکھائی کہ کوئی عزت کوئی آرام کوئی دولت اور کوئی امید باقی نہ رکھی۔یہ آج ہماری قربانیاں اسی پاک قربانی کا نمونہ ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے بھی کیسی جزا دی۔اولاد میں ہزاروں ہزار بادشاہ اور انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء بھی اسی کی اولاد میں پیدا کیا۔وہ زمانہ ملا جس کی انتہا نہیں۔خلفاء ہوں تو وہ بھی ملت ابراہیمی میں۔سارے نواب اور خلفاء الہی دین کے قیامت تک اسی گھرانے میں ہوئے ہیں اور ہونے والے ہیں۔پھر جب شکریہ میں نماز میں خدا کی عظمت اور کبریائی بیان کی تو مخلوق الہی کے لئے بھی۔کیونکہ ایمان کے اجزاء تو دو ہی ہیں۔تَعْظِیم لامر الله اور شَفْقَتْ عَلى خَلْقِ اللَّهِ ہاں مخلوق کے لئے یہ کہ وَانْحَرُ جیسے نماز میں لگے ہو قربانیاں بھی دو تاکہ مخلوق سے سلوک ہو۔قربانیاں وہ دو جو بیمار نہ ہوں۔دیلی نہ ہوں۔بے آنکھ کی نہ ہوں۔کان چرے ہوئے نہ ہوں۔عیب دار نہ ہوں۔لنگڑی نہ ہوں۔اس میں اشارہ یہ ہے کہ جب تک کامل قومی کو خدا کے لئے قربان نہ کرو گے، ساری نیکیاں تمہاری ذات پر