خطبات نور — Page 312
312 لئے مال عزیز خرچ کرنا۔نمازیں باقاعدہ اخلاص اور ثواب کے ماتحت ادا کرنی اور ایک مقررہ حصہ اپنے مال میں سے الگ کرنا جس کا نام زکوۃ ہے۔رنج میں، مصائب میں شدائد میں مقدمات میں غربت میں صبر اور استقلال سے قدم رکھنے والے یہی خدا کو پیارے ہیں۔انہی کا نام خدا نے صادق رکھا ہے۔اور یہی متقی ہیں۔ایک ہو جاؤ اور وحدت کا رنگ چڑھ جاوے۔یہاں آنیوالوں کے واسطے نہایت ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے میل ملاپ کریں۔پتہ مقام دریافت کریں۔نام و نشان پوچھیں اور آپس میں تعارف حاصل کریں۔یہ بھی ایک راہ ہے وحدت کے پیدا ہونے کی۔اور اگر کوئی کہے چلو جی! ہمیں کیا ہم تو ہیں پنجاب کے اور یہ ہیں ہندوستان کے اس سرے کے ہم تو آپس میں ملیں بیٹھیں ، اوروں سے کیا غرض و غایت؟ تو وہ نادان نہیں سمجھتا کہ یہ امر وحدت کے متضاد ہے۔بلکہ چاہئے کہ ہر ایک یہاں کے آنیوالے کے نام و نشان سے بخوبی واقفیت اور آگاہی ہو۔اور ایک دوسرے کے حالات پوچھے جاویں۔اسی طرح سے تعلق ہو جاتے ہیں۔خدا کی طرف سے آنیوالے وحدت چاہتے ہیں۔اخوان کے معنے اور مفہوم بھی یہی ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو جاننے پہچاننے والے ہوں۔تعارف کو بڑھانا چاہئے۔خدا تمہاری محنتوں ، محبتوں، جانفشانیوں کو رحم سے دیکھے اور قبول کرے اور آخر تک استحکام اور استقلال بخشے۔یہاں تک کہ کوچ کا وقت آجاوے اور تم اپنے اقرار کے پورے پکے رہنے والے ہو اور اللہ کی رضا کے حاصل کرنے والے اور مقدم کرنے والے بنو۔آمین۔خطبہ ثانیہ بات کا موقع تو کم ہے۔آپ لوگوں کے آج یہاں پر آجانے کا تو ہمیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔اللہ ہی نے یہ ایک موقع نکال دیا ہے اور یہ اس کی خاص حکمت ہے۔میں فروعات کے جھگڑوں کو پسند نہیں کرتا۔مجھے ایک بات آپ سے کہنی ہے اور وہ یہ ہے کہ سننے والے اس وقت میرے سامنے کچھ بچے ہیں، کچھ جوان کچھ ادھیڑ ہیں اور کچھ بوڑھے ہیں۔سب کو یہ بات سناتا ہوں کہ میرا بھی تجربہ ہے اور محبت اور بھلائی کی خاطر اور بہتری کی امید سے میں نے مناسب سمجھا کہ سنادوں۔یاد رکھو کہ ابتدا کی عادات لڑکپن اور جوانی کی بد عادتیں ایسی طبیعت ثانی بن جاتی ہیں کہ آخر ان کا نکلنا دشوار ہو جاتا ہے۔پس ابتداء میں دعا کی عادت ڈالو اور اس ہتھیار سے کام لو کہ کوئی بد عادت بچپن