خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 703

خطبات نور — Page 20

20 جمعہ کا دن تھا۔وہ عرفہ کا دن تھا۔وہ اسی عید اضحی کا مقدمہ تھا۔عرفات میں نازل ہوئی تھی۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند روز زندہ رہے۔یوں تو اللہ جل شانہ کا نزول ہر روز خاص طور پر رات کے آخر ثلث میں ہوتا ہے مگر جمعہ کے دن پانچ دفعہ اور عرفات کو نو دفعہ نزول ہوتا ہے۔احادیث صحیحہ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ شیطان ایسا کبھی یاس میں نہیں ہو تا جیسے عرفات کے دن۔یہ وہ دن ہے کہ اللہ جل شانہ نے ہماری نعماء دینیہ کے لئے جس کتاب کو نازل فرمایا تھا اسے کامل کر دیا۔کامل دین جس کا نام اسلام ہے اسے اسی دن کامل کر دیا۔جس دین کی متابعت ضروری اور اس پر کاربند ہونا سعید انسان کو لازم ہے اس کے اصول اور فروع اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن میں تمام و کامل کر دیئے۔وہ چیز جس کو کامل طور پر تمہیں، نہیں بلکہ دنیا کو پہنچانے کے لئے سرور عالم فخر بنی آدم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ساری دعاؤں اور کل طاقتوں اور مساعی جمیلہ کو پورے طور پر لگایا تھا اس کا نام اسلام ہے اور اس کی تکمیل کا دن جمعہ کا مبارک دن اور عرفات کا پاک دن ہے۔تمام ادیان مروجہ اور مذاہب موجودہ کا مقابلہ کرنا چاہیں اور غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ کیا بلحاظ اصول کے اور کیا بلحاظ حفظ اصول اور فروع کے وہ اسلام کے مقابلہ میں کچھ حقیقت ہی نہیں رکھتے اور بالکل بیچ دکھائی دیتے ہیں۔اس کے اہم ترین امور میں سے اللہ جل شانہ کا ماننا اس کو اسماء حسنیٰ اور صفات و محامد میں یکتا و بے ہمتا مانتا ہے۔جس کا خلاصہ لا الہ الا اللہ میں موجود ہے، جس کا نام افضل الذکر ہے اور جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کل نبیوں کی تعلیم کا خلاصہ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے اور آج میں بھی کہتا ہوں۔اَشْهَدُ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ہستی کے برابر اور ہستی کو یقین نہ کرے اور اللہ تعالیٰ کے اسماء میں افعال میں یکتا وجود و بقا میں یکتا تمام نقائص سے منزہ اور تمام خوبیوں سے معمور یقین کرے۔وہی معبود حقیقی ہے۔اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت جائز نہیں۔عبادت کا مدار ہے حسن و احسان پر پھر یہ دونوں باتیں بدرجہ کامل کس میں موجود ہیں؟ اللہ ہی میں۔احسان دیکھ لو۔تم کچھ نہ تھے۔تم کو اس نے بنایا۔کیسا خوبصورت تنومند اور دانشمند انسان بنا دیا۔بچے تھے۔ماں کی چھاتیوں میں دودھ پیدا کیا۔سانس لینے کو ہوا پینے کو پانی کھانے کو قسم قسم کی لطیف غذا ئیں ، طرح طرح کے نفیس لباس اور آسائش کے سامان کس نے دیئے؟ خدا نے! میں کہتا ہوں کیا چیز ہے جو انسان کو فطرتا مطلوب ہے اور اس نے نہیں دی۔سچی بات یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے احسان اور افضال کو کوئی گن ہی نہیں سکتا۔حسن دیکھو تو کیسا اکمل۔ایک ناپاک قطرہ سے کیسی خوبصورت شکلیں بناتا ہے کہ انسان محو ہو ہو رہ جاتا ہے۔