خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 283 of 703

خطبات نور — Page 283

283 اب اس کے بعد میں ان کلمات کا آسان ترجمہ سناتا ہوں جو ابھی میں نے پڑھے ہیں۔اللہ جلشانہ چونکہ رب ہے اور بے مانگے اس نے نعمتیں دی ہیں اور پھر مقدرت، قوت اور استطاعت بھی اس نے دی ہے اور اس امکان سے جو لَیمَكِّنَنَّ میں وعدہ دیا ہے اس قدرت سے جو پاک نتیجے مترتب ہوں اس کے فضل سے ہوتے ہیں۔ہاں اسی کے فضل سے ہوتے ہیں۔اس کی ربوبیت عامہ ، رحم ، فضل وسیع اور بلا مبادلہ ہے اور وہ رحم جو بالمبادلہ ہے وہ مالکیت چاہتی ہے۔ان سب نوازشوں اور مہربانیوں پر نگاہ کر کے بے اختیار دل سے نکلتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ یعنی سب تعریف اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔مومن تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہے۔کیا بلحاظ اس کے کہ اس کو پیدا کیا ہے۔اور یہ ایک عظیم الشان انعام انسان پر ہے کیونکہ ساری خوشیاں اور خوشحالیاں اس کے بعد ملتی ہیں کہ پیدا ہو۔پھر پیدا بھی اپنے رب کے ہاتھ سے ہوا جو بتدریج کمالات تک پہنچاتا ہے۔چونکہ وہ فی الواقعہ حمد کا مستحق ہے اس لئے ہم بھی نَحْمَدُۂ کہتے ہیں۔یعنی ہم بھی ایسے رب کی حمد میں دلی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔بہت سی وجوہات ہیں جو ہم پر حمد الہی کو فرض ٹھہراتے ہیں۔منجملہ جناب الہی کی حمدوں کے یہ ہے کہ انسان کا حوصلہ ایسا وسیع نہیں کہ وہ ساری دنیا سے تعلق رکھے اور محبت کر سکے۔نبیوں اور رسولوں کو بھی جب تباہ کار سیہ روزگار شریروں نے دکھ دیا تو آخر ان میں سے ایک بول اٹھا رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا (نوح:۳۷)۔فی الحقیقت ان پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ شریر نفوس کی حیاتی بھی پسند نہیں کرتے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان کا اتنا حوصلہ کہاں ہو سکتا ہے کہ سارے جہان سے اس کا مخلصانہ تعلق ہو۔پس اس سلسلہ کو وسیع کرنے کے باوجود محدود کرنے کے لئے نکاح کا ایک طریق ہے جس سے ایک خاندان اور قوم میں ان تعلقات کی بناء پر رشتہ اخلاص اور محبت پیدا ہوتا ہے۔نکاح میں جو تعلق خسر کو داماد سے ہوتا ہے یا فرزندانہ تعلقات داماد کو خسر سے ہوتے ہیں وہ دوسرے کو نہیں ہوتے۔یہ سچی بات ہے کہ وہ تعلق جو صلبی اولاد اور داماد کے ساتھ ہو سکتا ہے اس میں سارا جہان کبھی شریک نہیں ہو سکتا۔مگر اللہ تعالیٰ نے شعوب اور قبائل بنائے ہیں اور قوم در قوم بنا کر محبت کے تعلق اور سلسلہ کو وسیع کر دیا ہے۔اسی لئے جو لوگ نکاح نہیں کرتے احادیث میں ان کو بطال کہا گیا ہے کیونکہ ان کے تعلقات نوع انسان کے ساتھ بچے تعلقات نہیں ہو سکتے۔مگر جن کے تعلقات بچے اور اسلام پر مبنی ہیں وہ جانتے ہیں کہ رشتہ کے سبب سے مخفی در مخفی محبت کا تعلق بڑھتا جاتا ہے۔اور پھر اولاد کی وجہ سے یہ تعلقات اور بھی بڑھتے ہیں اور اس طرح پر یہ دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔ایسا ہی ریج