خطبات نور — Page 282
282 کے جو انسانی ضرورتوں، حاجتوں اور مشکلات کے لئے دعاؤں کا ہے اس کے لئے امام نے اجازت دی ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں مانگ لو۔اور اس سے پہلے امام ابو حنیفہ نے بھی اجازت دی ہے۔مگر پھر بھی اگر چہ ضرور تا اپنی زبان میں دعاؤں کی اجازت تو دی ہے لیکن مسنون دعاؤں کے ساتھ عربی کو ضائع نہیں کیا۔یہ اجازت نہیں دی کہ نماز اپنی زبان میں پڑھو۔ایسا ہی حج میں لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لك (بخارى كتاب الحج باب التلبیہ) وغیرہ کلمات عربی میں ہیں۔جمعہ کے خطبے ، عیدین کے خطبے تم نے سنے ہیں۔ایک حصہ عربی میں ہوتا ہے۔اسی طرح روزہ کے متعلق جو دعائیں ہیں وہ عربی میں ہیں۔اسی طرح ہر ایک کام میں یہاں تک کہ بول و براز کے وقت کے لئے بھی ایک حصہ عربی کا رکھا ہے۔ایسا ہی خطبہ نکاح جو جوانوں، بڑھوں کے لئے لازمی ہے، اس میں بھی عربی کا ایک حصہ رکھا ہے۔بنوامیہ نے عربی زبان کی وسعت اور حفاظت میں بڑی کوشش کی کہ انہوں نے اپنی سلطنت میں اس کو مادری زبان بنا دیا یہاں تک کہ الجزائر ، مراکش، فارس میں اس کو مادری زبان ہی بنا دیا۔مشرق میں البتہ یہ وقت رہی کہ درباری زبان فارسی کو بڑھاتے بڑھاتے اصل زبان کا درس تدریس مشرق سے مفقود ہو گیا۔میں نے بارہا کوشش کی ہے کہ اگر عام مسلمان اور خاص کر ہمارے امام کی جماعت روز مرہ کے کاموں کے عربی الفاظ کو یاد کرلے تو اسے قرآن شریف کا ایک حصہ یاد ہو جاوے۔لیکن افسوس سے کہا جاتا ہے کہ اس طرف بہت کم توجہ ہے اور جو یہاں رہتے ہیں وہ بھی پوری توجہ نہیں کرتے۔لغات القرآن جو یہاں چھپی ہے ایک مفید اور عمدہ کتاب ہے، جو بڑی محنت سے لکھی گئی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ حضرت امام نے بھی اس کی تعریف کی ہے۔لیکن اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔اس کتاب سے فائدہ اٹھایا جاوے تو قرآن شریف کے سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے۔غرض قرآن مجید کی حفاظت کا ایک ذریعہ عربی زبان کی حفاظت بھی ہے اور اس کی طرف مسلمانوں کو توجہ کرنی چاہئے اور خصوصاً ہماری جماعت کو بہت متوجہ ہونا چاہئے۔میں نے اس نکاح کی تقریب پر اسی سنت متوارث پر عمل کرنے کے لئے عربی زبان میں خطبہ پڑھا ہے۔مگر طرفین ہی ایسے ہیں کہ نہ خطبہ سننے کی ضرورت نہ کہنے کا موقع۔ایک طرف حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔ان کو ہم سنانے نہیں آئے بلکہ ان سے سننے آئے ہیں۔پس اگر میں تصریح کروں تو میرا نفس مجھے ملامت کرتا ہے۔ہاں جو کچھ میں عرض کروں گا یا کہا ہے یہ محض حضرت امام کے حکم کی تعمیل ہے۔عربی زبان کی تائید میں اس لئے کہا ہے کہ اس متوارث سنت کو تمہارے کانوں تک پہنچاؤں جس سے رسول کی زبان محفوظ رہے اور تم قرآن کریم کی ارفع اطیب زبان میں ترقی کرو۔