خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 250 of 703

خطبات نور — Page 250

250 نہیں۔اس لئے میں تم کو بتانا چاہتا ہوں کہ خدا فرماتا ہے تقویٰ اختیار کرو اور اپنے باطن کو ایسا پاک صاف کر لو جیسا کہ چاہئے۔خدا بڑا پاک قدوس اور سب سے بڑھ کر مطہر ہے۔اس کی جناب میں مقرب بھی وہی ہو سکتا ہے جو خود پاک ہے۔گندا آدمی قبولیت حاصل نہیں کر سکتا۔دیکھو ایک پاک صاف اور عمدہ لباس والا آدمی ایک پیشاب والی گندی جگہ پر نہیں بیٹھتا۔اسی طرح ایک پاک اور قدوس خدا ایک گندے کو اپنا مقرب کس طرح بنا سکتا ہے؟ اسی واسطے اس نے سعیدوں کے واسطے بہشت اور شقیوں کے لئے دوزخ بنایا ہے۔ایک ناپاک انسان تو بہشت کے قابل بھی نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ کے قرب کے لائق کب ہو سکتا ہے۔تنہائی میں بیٹھ کر اگر ایک شخص کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوتے ہیں کہ ایسا مکان ہو ایسا لباس ہو ایسا بسترہ ہو، ایسے ایسے عیش و عشرت کے سامان موجود ہوں، اس اس طرح کے خوشکن آواز میسر آ جاویں تو اس کی موت مسلمان کی موت نہیں ہو سکتی۔مومن اور مسلمان انسان کی تو ایسی حالت ہو جانی چاہئے کہ مرتے وقت کوئی غم اور اندیشہ نہ ہو۔اس واسطے فرمایا لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (ال عمران:۱۰۳) یعنی فرمانبردار ہو کر مریو۔کسی کو خبر ہے کہ موت کے وقت اس کی ہوش بھی قائم ہوگی یا نہیں۔کئی مرنے کے وقت خراٹے لیتے ہیں۔رہی بلونے کی طرح آواز نکالتے ہیں اور طرح طرح کے سانس لیتے ہیں۔کئی کتے کی طرح ہاہا کرتے ہیں۔جب یہ حال ہے اور دوسری طرف خدا بھی کہتا ہے کہ مسلمان ہو کر مریو، ایسے ہی رسول نے بھی کہا۔تو یہ کس کے اختیار میں ہے جو ایسی موت مرے جو مسلمان کی موت ہو، گھبراہٹ کی موت نہ ہو۔اس کا ایک سر ہے کہ جب انسان سکھ میں اور عیش و عشرت اور ہر طرح کے آرام میں ہوتا ہے سب قومی اس میں موجود ہوتے ہیں۔کوئی م نہیں ہوتی۔اس وقت استطاعت اور مقدرت ہوتی ہے جو خدا کے حکم کی نافرمانی کر کے حظ نفس کو پورا کرے اور کچھ دیر کے لئے اپنے نفس کو آرام دے لے۔پر اگر اس وقت خدا کے خوف سے بدی سے بچ جاوے اور اس کے احکام کو نگاہ رکھے تو اللہ ایسے شخص کو وہ موت دیتا ہے جو مسلمان کی موت ہوتی ہے۔اگر وہ اس وقت مرے گا جب کہ مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ القارعه) یعنی جب اس کی ترازو زور والی ہو گی تو وہ بامراد ہو گا اور مسلمان کی موت مرے گا۔ورنہ ہم نے دیکھا ہے کہ مرتے وقت عورتیں پوچھتی ہی رہتی ہیں کہ میں کون ہوں؟ دوسری کہتی ہے دس خاں میں کون ہاں؟ تیسری پوچھتی ہے دسو خاں جی میں کون ہاں اور اسی میں ان کی جان نکل جاتی ہے۔اس کے بعد اللہ کریم فرماتا ہے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا۔ہر مدرسہ میں ایک رسہ ہوتا