خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 249 of 703

خطبات نور — Page 249

249 لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ پڑھ لیتا ہوں۔گو میری یہ عادت نہیں کہ اپنی ہر ایک حرکت اور بات کو بلند آواز سے ظاہر کروں مگر جب کوئی لمبی بات یا درد مند دل کی بات کرنی ہو تو میں اَشْهَدُ اَنْ لا إله إلا الله وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔اس کے اول ضرور پڑھتا ہوں اور میری غرض اس سے یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو میری نصیحت سنتے ہیں اس بات کے گواہ رہیں جو میں خدا کو واحد لا شریک اس کی ذات اور صفات میں مانتا ہوں اور میں حضور قلب سے یقین سے استقلال سے یہ بات کہتا ہوں کہ میں اس کی قدرتوں کو بیان کرتے ہوئے کبھی شرمندگی نہیں اٹھاتا۔میں اسے اپنا محبوب مانتا ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو سب انبیاء کا سردار اور فخر رسل سمجھتا ہوں اور میں اللہ کریم کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے محض اپنے فضل سے اس کی امت سے مجھے بنایا۔اس کے محبوں سے بنایا۔اس کے دین کے محبوں سے بنایا۔اس کے بعد میں یہ کہتا ہوں کہ تم نے دیکھا ہو گا کہ میں سخت بیمار ہو گیا تھا اور میں نے کئی دفعہ یقین کیا تھا کہ میں اب مرجاؤں گا۔ایسی حالت میں بعض لوگوں نے میری بڑی بیمار پرسی کی۔تمام رات جاگتے تھے۔ان میں سے خاص کر ڈاکٹر ستار شاہ صاحب ہیں۔بعضوں نے ساری ساری رات دبایا اور یہ سب خدا کی غفور رحیمیاں ہیں ، ستاریاں ہیں جو ان لوگوں نے بہت محبت اور اخلاص سے ہمدردی کی۔اور یاد رکھو کہ اگر میں مرجاتا تو اسی ایمان پر مرتا کہ اللہ واحد لاشریک ہے اپنی ذات اور صفات میں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بچے رسول اور خاتم الانبیاء اور فخر رسل ہیں۔اور یہ بھی میرا یقین ہے کہ حضرت مرزا صاحب مہدی ہیں، مسیح ہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے بچے غلام ہیں۔بڑے راستباز اور بچے ہیں۔گو مجھ سے ایسی خدمت ادا نہیں ہوئی جیسی کہ چاہئے تھی اور ذرہ بھی ادا نہیں ہوئی، میں آج اپنی زندگی کا ایک نیا دن سمجھتا ہوں۔گو تم یہ بات نہیں سمجھ سکتے۔مگر اب میں ایک نیا انسان ہوں اور ایک نئی مخلوق ہوں۔میرے قومی پر میرے عادات پر میرے دماغ پر میرے وجود پر میرے اخلاق پر جو اس بیماری نے اثر کیا ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ میں ایک نیا انسان ہوں۔مجھے کسی کی پروا نہیں۔میں ذرا کسی کی خوشامد نہیں کر سکتا میں بالکل الگ تھلگ ہوں۔میں صرف اللہ کو اپنا معبود سمجھتا ہوں۔وہی میرا رب ہے۔بعضوں نے مجھے پوچھا بھی ہے اور میری بیمار پرسی بھی کی ہے اور میرے ساتھ ہمدردی بھی کی ہے۔مگر کتنے ہیں جنہوں نے پوچھا تک نہیں اور بہت ہیں جو کہتے ہیں کہ مرتا ہے تو مر جائے، ہمیں کیا؟ کیونکہ میں خوب سمجھتا ہوں کہ آئندہ ہفتہ تک میری زندگی بھی ہے کہ نہیں۔ایسا ایسا دکھ درد اور تکلیف مجھے پہنچی ہے کہ میں سمجھتا تھا کہ اب دوسرا سانس آئے گا کہ