خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 243 of 703

خطبات نور — Page 243

243 رکعت میں دو دو رکوع کئے۔اسی طرح زیادہ بھی رکوع کر سکتے ہیں۔یہ نماز ایک گھنٹہ میں ختم ہوئی۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ بعض صحابہ کو اس نماز میں طوالت قرات کے سبب غشی ہو جاتی تھی۔نماز ختم ہونے کے بعد مولوی صاحب مکرم نے خطبہ پڑھا جو نہایت ہی لطیف تھا۔آپ نے فرمایا کہ :۔دو کار خانے ہیں جسمانی اور روحانی۔پہلے اپنی حالت کو دیکھو کہ دل سے بات اٹھتی ہے تو ہاتھ اس پر عمل کرتے ہیں جس سے روح و جسم کا تعلق معلوم ہوتا ہے۔غم و خوشی ایک روحانی کیفیت کا نام ہے مگر اس کا اثر چہرہ پر بھی ظاہر ہوتا ہے۔کسی سے محبت ہو تو حرکات و سکنات سے اس کا اثر معلوم ہو جاتا ہے۔انبیاء علیہم السلام نے بھی اس نکتہ کو کئی پیرایوں میں بیان کیا۔مثلاً حدیبیہ کے مقام پر جب سہیل آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سهل الامر (بخاری کتاب الشروط في الجهاد والمصالحة) اب یہ معاملہ آسانی سے فیصل ہو جائے گا۔دیکھو بات جسمانی تھی نتیجہ روحانی نکالا۔اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی طرف خیال کرو کہ پاخانے جاتے وقت ایک دعا سکھائی۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْحُبْثِ وَالْخَبَائِثِ (بخاری ـ کتاب الدعوات باب الدعاء عند الخلاء) یعنی جیسے پلیدی ظاہری نکالی اسی طرح باطنی نجاست کو بھی نکالنے کی توفیق دے۔پھر جب مومن فارغ ہو جائے تو پڑھے غُفْرَانَكَ۔اس میں بھی یہ اشارہ تھا کہ گناہ کی خباثت سے جب انسان بچتا ہے تو اسی طرح کا روحانی چین پاتا ہے۔نماز روزہ، حج، زکوۃ سب ارکان اسلام میں جسمانیت کے ساتھ ساتھ روحانیت کا خیال رکھا ہے اور نادان اس پر اعتراض کرتے ہیں۔مثلاً وضو ظاہری اعضاء کے دھونے کا نام ہے مگر ساتھ ہی دعا سکھلائی ہے اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلْنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ (سنن ترمذی ابواب الطهارة) کہ جیسے میں نے ظاہری طہارت کی ہے مجھے باطنی طہارت بھی عطاء کر۔پھر قبلہ کی طرف منہ کرنے میں یہ تعلیم ہے کہ میں اللہ کے لئے سارے جہان کو پشت دیتا ہوں۔یہی تعلیم رکوع و سجود میں ہے۔وہ تعظیم جو دل میں اللہ تعالیٰ کی ہے وہ جسمانی اعضا سے ظاہر کی جارہی ہے۔زکوۃ روحانی بادشاہ کے حضور ایک نذر ہے اور جان و مال کو فدا کرنے کا ایک ثبوت ہے جیسا کہ ظاہری بادشاہ کے لئے کیا جاتا ہے۔اور حج کے افعال کو سمجھنے کے لئے اس مثال کو پیش نظر رکھئے کہ جیسے کوئی مجازی عاشق سن لیتا ہے کہ میرے محبوب کو فلاں مقام پر کسی نے دیکھا تو وہ مجنونانہ وار اپنے لباس وغیرہ سے بے خبر اٹھ کر دوڑتا ہے، ایسا ہی یہ اس محبوب ہ