خطبات نور — Page 240
240 تحلیل ہو رہا ہے اور اس کے ذرات جدا ہوتے جاتے ہیں اس قدر تیاریاں کی جاتی ہیں اور اس کی حفاظت کے واسطے سامان مہیا کئے جاتے ہیں تو پھر کس قدر تیاری اس نفس کے واسطے ہونی چاہئے جس کے ذمہ موت کے بعد کی جو ابد ہی لازم ہے۔اس آنی فناوالے جسم کے واسطے جتنا فکر کیا جاتا ہے کاش کہ اتنا فکر اس کے نفس کے واسطے کیا جاوے جو کہ جواب دہی کرنے والا ہے۔إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔اس آگاہی کا لحاظ کرنے سے آخر کسی نہ کسی وقت فطرت انسانی جاگ کر اسے ملامت کرتی ہے اور گناہوں میں گرنے سے بچاتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم تقویٰ اختیار کرو اور سیدھی بات بولو تو خدا تعالیٰ تمہاری کمزوریوں کو معاف کرے گا اور تمہاری غلطیوں کی سنوار اور اصلاح ہو جائے گی۔انسان کو چاہئے کہ ہر وقت اپنے اعمال کی اصلاح میں کوشش کرتا رہے۔جب مرنے کا وقت قریب آتا ہے تو انسان کے حقیقی اعمال جو خدا تعالیٰ کے نزدیک پسند یا غیر پسند ہوں ، پیش ہوتے ہیں نہ کہ وہ اعمال جو لوگوں کے سامنے وہ دکھاتا اور ظاہر کرتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ اختیار کرو اور خدا تعالیٰ کے اس احسان کو یاد کرو کہ اس نے آدم کو پیدا کیا اور اس سے بہت مخلوق پھیلائی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام و البرکات پر اس کا خاص فضل ہوا اور ابراہیم کو اس قدر اولاد دی گئی کہ اس کی قوم آج تک گئی نہیں جاتی۔اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہمارے امام کو آدم کیا ہے اور بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا کی آیت ظاہر کرتی ہے کہ اس آدم کی اولاد بھی دنیا میں اسی طرح پھیلنے والی ہے۔میرا ایمان ہے کہ بڑے خوش قسمت وہ لوگ ہیں جن کے تعلقات اس آدم کے ساتھ پیدا ہوں۔کیونکہ اس کی اولاد میں اس قسم کے رِجَال اور نساء پیدا ہونے والے ہیں جو خدا تعالیٰ کے حضور میں خاص طور پر منتخب ہو کر اس سے مکالمات سے مشرف ہوں گے۔مبارک ہیں وہ لوگ۔مگر یہ باتیں بھی پھر تقویٰ سے حاصل ہو سکتی ہیں اور تقویٰ ہی کے ذریعہ سے فائدہ پہنچا سکتی ہیں کیونکہ خدا کسی کا رشتہ دار نہیں ہے۔مجھے سب سے بڑھ کر جوش اس بات کا ہے کہ میں مسیح موعود کے بیوی بچوں، متعلقین اور قادیان میں رہنے والوں کے واسطے دعائیں کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کو رِجَالاً كَثِيراً اور تقویٰ اللہ والے کے مصداق بنائے۔آج کی تقریب ایک خاص خوشی کا موقع ہے اور خاص خوشی خانصاحب نواب محمد علی خاں کے لئے ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی قسمت میں یہ بات کر دی کہ وہ اس تعلق میں شمولیت حاصل کریں۔آج یہ تقریب ہے کہ ہمارے امام آدم وقت کے اس شریف لڑکے کا نکاح نواب صاحب کی