خطبات نور — Page 221
221 ہو۔دیکھو ایک تو وہ جس نے ریویو براہین احمدیہ کا لکھا اور تائید و تصدیق میں کوئی دقیقہ اس نے فروگذاشت نہیں کیا تھا۔یہ شعر بھی اسی ریویو میں لکھا ہوا ہے کہ۔سب مریضوں کی ہے تمہیں نگاه تم مسیحا بنو خدا کے لئے دوسرا شخص وہ ہے جس نے ایک بڑی تفسیر طول طویل لکھی تھی جس تفسیر میں کثرت سے آیات اللہ کو تائید و تصدیق مسیح موعود میں تحریر کیا تھا اور آتَيْنَاهُ ايَاتِنَا (الاعراف) کا مصداق تھا وہ بھی مکذب ہو چکا ہے جس کی تکذیب اخبار بدروغیرہ میں طبع ہو چکی۔یہ مضمون میں نے اس لئے بیان کیا ہے کہ کوئی صاحب یہ و ہم اپنے دل میں نہ لاویں کہ ایسے لوگوں کا بدل جانا اس مسیح موعود سے اس کی صداقت اور حقیقت میں کچھ فرق پیدا کرتا ہے۔حاشا و کلا۔بلکہ یہ تو سنت اللہ ہے جو قدیم سے ہوتی چلی آتی ہے اور قیامت تک رہے گی۔اس لئے یہاں پر لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (الاعراف ۱۷۸) وغیرہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ لوگ ہمیشہ غور اور فکر کرتے رہیں کہ ایسی تکذیب سے صداقت اور حقیقت صادق میں کسی طرح کا فرق نہیں آسکتا بلکہ ایسے امور میں تفکر کرنے سے ایک طرح کی صداقت پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ جب حضرت موسیٰ کے وقت سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک تک ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے جیسا کہ احوال بلعم باعور اور امیہ بن ابی الصلت سے واضح ہو گیا تو کار خانہ نبوت میں ایسے مرتدین کا وجود واسطے ظہور نشانات کے بھی سنت اللہ میں داخل ہو گیا۔وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ۔در کارخانه عشق از کفر ناگزیر است بسوزد دگر بولهب نباشد آتش کرا اور جو ایسا مکذب ہو جاوے وہ مامور من اللہ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔بلکہ وَ انْفُسَهُمْ كَانُوا يُظْلِمُونَ (الاعراف (۱۷۸) کا مصداق ہو جاتا ہے۔جو کوئی اس امر کا مشکر ہوا اپنا کچھ کھویا کسی کا کیا گیا اب فرمایا جاتا ہے اور اگر ہم چاہتے تو انہیں آیات کی تصدیق کی برکت سے اس کا مرتبہ بلند کرتے مگر