خطبات نور — Page 220
220 جاوے تو پھر وہ کھال اس ذی جان کے جسم میں دوبارہ نہیں لگ سکتی اور یہ بھی مفہوم ہوا کہ قبل انسلاخ کے اس کھال کو اس جاندار کے ساتھ کمال اتصال تھا۔مع ہذا پھر بعد انسلاخ کے مبائنت تامہ ہو گئی۔پھر ایسا مکذب کیوں کر مصدق ہو سکتا ہے۔الا مَنْ شَاءَ الله۔دوسری مذمت ایسے مکذب کی یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اب اس کے پیچھے شیطان ایسا لگ گیا کہ وہ خود شیطان بن جاوے گا کیونکہ ایک قرات میں فَاتَّبَعَهُ الشَّيْطَانُ باب افتعال سے بھی آیا ہے۔یعنی شیطان اس کا منبع ہے اور وہ شیطان کا بھی باپ یعنی متبوع ہے۔دیکھو اللہ تعالی کو ایسے مکذب کی کس قدر مذمت منظور ہے۔پھر تیسری خدمت ایسے مکذب کی فرمائی گئی کہ وہ خومی اور عادی ہو چکا یعنی سخت گمراہ ضدی ہو گیا۔کیونکہ غادی اس کو کہتے ہیں کہ جس کے ہدایت پانے کی امید نہ رہی ہو اور لفظ غوغا کا مادہ بھی یہیں غوایہ ہے جو جنگ و جدال اور شور و شر پر دال ہے بخلاف لفظ نبی کے کیونکہ اس کے مفہوم میں صرف سادگی اور بے وقوفی داخل ہے۔لاغیر۔دیکھو صراح صحاح وغیرہ کو۔چوتھی مذمت ایسے مکذب کی یہ فرمائی گئی ہے کہ وہ زمین ہی میں لگ گیا یعنی دھنس گیا اور چپک گیا۔تفسیر کبیر وغیرہ میں لکھا ہے کہ قال أَصْحَابُ الْعَزيةِ أَصْلُ الْإِعْلادِ اللُّرُوْمُ عَلَى الدَّوامِ وَكَأَنَّهُ قِيلَ لَزِمَ الْمَبْلُ إِلَى الْأَرْضِ وَ مِنْهُ يُقَالُ الدَ فَلَانُ بِالْمَكَانِ إِذَا لَزِمَ الْإقامة به۔پانچے میں خدمت اس کی یہ فرمائی گئی ہے کہ کتنے کے ساتھ اس کو تشبیہ دی گئی جو اخس الحیوانات ہے۔چھٹی قدمت ایسے مکذب کی یہ ارشاد ہوئی کہ کتے کی اس حالت کے ساتھ اس کی حالت مشابہ ہے جو بد ترین حالت ہے یعنی زبان نکال کر ہانپتے رہنا۔وہ بھی ہر ایک حال میں خواہ اس کو کسی شکار کرنے کے لئے دوڑایا جاوے یا نہ دوڑایا جاوے مگر زبان نکال کر وہ ہانپتا ہی رہتا ہے۔پھر خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ نے افعال زم کے ساتھ اس مثل کی خدمت فرمائی کہ یہ مثل ایسے مکذبین کی بہت ہی بری مثل ہے وغیرہ وغیرہ۔اس بیان سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ انبیائے اولوالعزم کے وقت میں بھی ایسے مکذب گزرے ہوئے ہیں جو سب طرح کے نشانات دیکھ کر بلکہ خود ان نشانوں سے مامور من اللہ کی حقیقت کو ثابت کر کر تصدیق کر چکے تھے جس پر الفاظ اتيناه اياتنا (الاعراف (۱۷) دال ہیں پھر بھی وہ مکذب ہو گئے ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس قدر مذمت فرمائی ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی اور مکذب کی شاید ہی فرمائی ہو اور یہ سنت اللہ قدیم سے جاری ہے۔اب دریافت طلب یہ امر ہے کہ حضرت مسیح کے وقت میں موافق اسی سنت اللہ کے کوئی ایسا فرد کامل مذبوں کا بھی موجود ہے یا نہیں؟ جواب اس کا یہی ہے کہ کئی شخص موجود ہو گئے ہیں۔دور کیوں جاتے