خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 209 of 703

خطبات نور — Page 209

209 یہی ہے کہ اس سورۃ متبرکہ میں آل عمران کا اصطفا قریب اسی آیتوں میں بیان فرمایا گیا ہے اور جو نزاع اور اختلاف در میان اہل کتاب یہود اور نصاری کے واقع تھے ان کا فیصلہ مسلمات اہل کتاب سے بدلائل بینہ کیا گیا۔اور حق الامر کے دلائل دیتے ہوئے استدلال کا وہ اسلوب حسن اختیار کیا گیا ہے کہ آئندہ زمانوں میں قیامت تک جو نزاع درباره آل عمران یعنی حضرت عیسی اور ان کی والدہ کے واقع ہو اس کا فیصلہ بھی انہیں دلائل مندرجہ آیات سے بخوبی ہو سکتا ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ۔ان آیات سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کی نسبت یہ وعدہ فرمایا ہے کہ تم کو صلیب کی موت سے جو بموجب حکم تو رات کے لعنتی موت ہے بچایا جاوے گا اور تمہاری موت توفی کی موت ہوگی جس میں تم کو رفع الی اللہ یعنی قرب الہی حاصل ہو گا اور منکرین کے الزامات بیجا سے تم کو پاک کیا جاوے گا اور تمہارے مخالفین کافرین کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی عذاب شدید کے ساتھ معذب کیا جاوے گا اور تمہارے موافقین مومنین اور متبعین کو مانند تمہارے رفع اور فوقیت مخالفین کافرین پر عطا کی جاوے گی۔جس طرح پر کہ حضرت آدم کو یہ مراتب بشری یا اصطفا کے ہماری طرف سے عنایت ہوئے تھے اسی طرح تم کو بھی حاصل ہوں گے وغیرہ وغیرہ جو اوپر کی آیات میں مفصل مذکور ہے۔اب ان آیات میں فرمایا جاتا ہے کہ یہ سب ادلہ اور جملہ امور جو حضرت عیسی کے بارہ میں مذکور کئے گئے حق اور ثابت شدہ صداقتیں ہیں تیرے رب کی طرف سے جو تیری تربیت کا ذمہ دار اور تعلیم کنہ اشیاء کا متکفل ہے۔اس لئے شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔سوال۔انبیاء علیہم السلام کو وحی الہی میں کب شک ہوا کرتا ہے خصوصاً حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو شک کیونکر ہو سکتا ہے جس کی نہی فرمائی گئی ؟ الجواب۔بادشاہ کا جو خطاب سپہ سالار فوج کو امریاضی ہوا کرتا ہے مراد اس خطاب سے غالبا اس سپہ سالار کی فوج اور لشکر ماتحت اس کا ہوتا ہے۔اس طرح پر اگر چہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو ہے مگر اس خطاب سے مراد آپ کی امت ہے اور ایسے خطاب میں ایک عجیب نکتہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان امور مذکورہ میں شک کرنا مذموم اور محذور میں اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ جس شخص سے اس میں شک کرنے کا گمان بھی نہیں ہو سکتا اس کو بھی نہی فرمائی گئی چہ جائیکہ اس شخص کے جس کو شک کرنے کے لئے شیاطین الجن والانس سامان و اسباب شک کرنے کے مہیا کرتے رہتے ہوں۔اور آنحضرت کی نسبت امکان شک کا نہ ہونا اس امر سے ظاہر ہے کہ باوجود یکہ اہل کتاب یہود و نصاری اناجیل اور طالمود سے طرح طرح کی روایات اپنے اپنے مذہب کی تائید میں حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے روبرو پیش کرتے