خطبات نور — Page 196
عقبات نور 196 یہ تعلق ہمیشہ کے واسطے بیوی کے لئے ایک دکھ اور تکلیف کا موجب بن جاتا ہے۔اس واسطے اس موقع پر استغفار کا سبق دیا گیا ہے۔بعض غلطیوں کے بد نتائج کے سبب وہ اغراض پورے نہیں ہوتے جن کے واسطے یہ تعلقات پیدا ہوئے ہیں۔ان سب کا علاج استغفار ہے۔جناب الہی میں استغفار کرنا تمام انبیاء کا ایک اجماعی مسئلہ ہے۔استغفار تمام انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ گزشتہ غلطیوں کے بد نتائج سے بچاوے اور آئندہ غلطیوں میں پڑنے سے بچائے۔خدا تعالیٰ نے اس تعلق کی حفاظت کے لئے بڑی تاکید فرمائی ہے۔نکاح کے تعلقات میں اگرچہ احباب نے حضرت امام علیہ السلام کے منشاء کے مطابق پورے طور پر کارروائی شروع نہیں کی پھر بھی بعض بہت ہی اخلاص رکھنے والے دوست ہیں جو چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد کے نکاح حضرت امام کی موجودگی میں اس جگہ قادیان میں پڑھے جائیں تاکہ آپ کی دعاء و برکت سے یہ تعلقات ثمرات خیر کا باعث ہوں۔چنانچہ ایسے ہی مخلص دوستوں میں سید حامد شاہ صاحب اور ان کے والد حکیم حسام الدین صاحب اور سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم ہیں جن کی اولاد کے نکاح اس وقت آپ صاحبان کے سامنے باندھے جاتے ہیں۔سید حامد شاہ صاحب کے لڑکے محمد کا نکاح سید فصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کی لڑکی رفعت نام کے ساتھ کیا گیا۔لڑکے کی طرف سے مولوی عبد الکریم صاحب وکیل ہیں اور لڑکی کی طرف سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر۔(۲) سید حامد شاہ صاحب کے لڑکے عبد الحمید کا نکاح سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کی لڑکی مریم کے ساتھ کیا گیا۔لڑکے کی طرف سے وکیل مولوی عبد الکریم صاحب اور لڑکی کی طرف سے شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر ہیں۔(۳) سید حکیم حسام الدین صاحب کے پوتے عبدالسلام پسر سید محمود شاہ صاحب مرحوم کا نکاح سید خصیلت علی شاہ صاحب مرحوم کی لڑکی فضیلت کے ساتھ کیا گیا۔آپ دعا کریں کہ جس غرض سے یہ نکاح اس جگہ کئے گئے ہیں وہ حاصل ہو اور میاں بیوی کے تعلقات میں برکت ہو۔نیک اولاد آگے ہو جس سے لاکھوں صلحا آگے پیدا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور دیگر احباب نے دعا کی اور پھر چھوہارے تقسیم کئے گئے۔اس امر کا بیان کرنا فائدہ سے خالی نہ ہو گا کہ لڑکیاں اور لڑکے اور ان کے ولی بعض وجوہات سے خود قادیان میں حاضر نہیں ہو سکتے تھے لیکن ان کی دلی خواہش تھی کہ یہ نکاح قادیان میں ہو اور ایسے جلسہ میں ہو جس میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام موجود ہوں۔چنانچہ یہ درخواست سیالکوٹ سے یہاں حضرت کی خدمت میں آئی۔)