خطبات نور — Page 173
173 صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی پہلی تقریر کی تکذیب کروں۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ اس کام میں میرے ساتھ کوئی اور بھی ہے (یعنی کوئی اور بھی ایسا ہے جس نے میری جیسی تقریر کی ہو)۔انہوں نے کہا ہاں دو آدمیوں نے تیری جیسی تقریر کی ہے اور ان کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایسا ہی فرمایا ہے جیسا تجھے فرمایا ہے۔میں نے کہا وہ دونوں کون کون ہیں؟ لوگوں نے کہا ایک مرارہ بن ربیعہ عامری اور دوسرا ہلال بن امیہ واقفی۔وہ کہتا ہے کہ لوگوں نے ایسے دو آدمی صالح کا نام لیا کہ جو بدر میں حاضر ہوئے تھے اور جن کا اقتدا کرنا چاہئے تھا۔کہتا ہے جب انہوں نے میرے روبرو ان دونوں کا ذکر کیا تو میں چلا گیا اور لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہلی تقریر کی تکذیب کرنے نہ گیا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ متخلفین میں سے ان تین آدمی سے کوئی کلام نہ کرے۔کہتا ہے کہ لوگ ہم سے اجتناب کر گئے یا کہا کہ لوگ ہم سے متغیر ہو گئے کہ وہ زمین بھی مجھے اوپری معلوم دینے لگی۔گویا وہ زمین ہی نہ تھی جس کو میں پہچانتا تھا۔پس ہم پچاس رات اسی حال میں مبتلا رہے۔میرے ان دونوں یاروں نے عاجز ہو کر اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونا شروع کیا۔اور میں جوان دلیر تھا۔بازاروں میں پھرتا تھا اور نماز میں حاضر ہوتا تھا۔مگر مجھ سے کوئی کلام نہ کرتا تھا اور میں نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آن کر سلام کہتا اور دیکھتا کہ سلام کے جواب میں آپ کے لب مبارک نے حرکت کی ہے کہ نہیں۔پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب کھڑا ہو کر نماز پڑھتا اور آنکھ چرا آپ کی طرف دیکھتا۔جب میں نماز کی طرف متوجہ ہو تا تو آپ میری طرف نظر کرتے اور جب میں آپ کی طرف دیکھتا تو آپ منہ پھیر لیتے۔جب مسلمانوں کی کڑائی مجھ پر بہت ہو گئی تو ایک دن میں ابو قتادہ کے باغ کی دیوار پھاند کر جو میرا چازاد بھائی تھا اور میری اس سے بہت محبت تھی باغ میں گیا۔میں نے اس کو السلام علیکم کہا مگر اس نے سلام کا جواب نہ دیا۔میں نے کہا۔اے ابو قتادہ! میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ تجھے معلوم ہے کہ میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔وہ خاموش رہا اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔میں نے پھر اس کو قسم دے کر کہا۔وہ خاموش ہی رہا اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔میں نے پھر تیسری دفعہ جب قسم دے کر کہا تو اس نے اس قدر کہا کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خوب جانتے ہیں۔یہ سنتے ہی میرے اشک جاری ہو گئے اور اسی طرح سے دیوار پر سے ہو کر وہاں سے نکل آیا۔میں بازار میں چلا جاتا تھا کہ ایک آدمی شام کے لوگوں میں سے جو مدینہ میں غلہ فروخت کرنے کو آئے تھے کہتا پھرتا تھا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتلاوے۔لوگوں نے میری طرف اشارہ کر