خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 172 of 703

خطبات نور — Page 172

172 کرکے روانہ ہو گئے اور کعب پیچھے رہ گیا۔جب وہ بازار میں گیا تو اسے کچھ بھی نہ ملا۔اس کا ہلی اور سستی کا اور کیا نتیجہ ہوتا۔آخر کار شمولیت سے محروم رہا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم واپس تشریف لائے تو کعب ایک حدیث میں خود بیان کرتا ہے مجھے غم نے تنگ کیا اور میں جھوٹ بولنے کا ارادہ کرنے لگا اور سوچنے لگا کہ ایسی بات کہوں کہ آپ کے غصہ سے بچ جاؤں اور اپنی برادری کے ہر کمند سے اس میں اعانت کا طلبگار ہوا۔جب خبر لگی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اس وقت مجھے سے یہ کذب دور ہو گیا اور میں نے جان لیا کہ آپ کے روبرو جھوٹ بولنے سے مجھے کبھی نجات نہ ہو گی۔پس میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الصباح مدینہ میں آ پہنچے۔اور جب آپ سفر سے تشریف لایا کرتے تھے تو اول مسجد میں نزول فرمایا کرتے تھے۔آپ نے مسجد میں دو رکعت نماز پڑھی اور لوگوں کی ملاقات کے لئے وہاں ہی بیٹھ گئے۔پس مختلف لوگ آتے اور سوگند کھا کھا کر اپنے تخلف کے عذر آپ کے سامنے بیان کرتے تھے اور یہ لوگ اسی آدمی سے کچھ زیادہ تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا عذر قبول فرمایا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار کیا اور ان کے باطن اللہ تعالیٰ کے سپرد فرمائے۔جب میں خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے دیکھ کر غضبناک آدمی کی طرح تجسم فرمایا اور مجھے کہا آگے آ۔میں سلام کہہ کر آپ کے آگے بیٹھ گیا۔پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ تو کس سبب پیچھے رہ گیا۔کیا تو نے سواری خرید نہیں کی تھی؟ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ اگر آج میں آپ کے سوا کسی دنیا دار آدمی کے روبرو ہوتا تو خدا تعالیٰ نے مجھے کلام میں ایسی فصاحت عطا کی ہے کہ آپ دیکھتے کہ میں عذر بیان کر کے اس کے غصہ سے صاف نکل جانک۔لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر میں آج جھوٹ بول کر آپ کو خوش بھی کر لوں گا تو عنقریب خدا تعالیٰ آپ کو مجھ پر غضبناک کر دے گا۔مگر خدا تعالیٰ سے مجھے عافیت کی امید ہے۔خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ مجھے کوئی عذر نہ تھا اور میں تخلف کے وقت پہلے سے بھی قوی اور خوش گذران تھا۔(میری عرض سن کر) آپ نے فرمایا۔بیشک اس نے سچ کہا اور مجھے فرمایا) اٹھ کھڑا ہو اور چلا جاتا کہ خدا تعالیٰ تیرے حق میں فیصلہ کرے (میں اٹھ کھڑا ہوا) اور بنی سلمہ میں سے کچھ آدمی میرے پیچھے ہو لئے اور مجھے کہتے تھے۔خدا تعالیٰ کی قسم ہے، ہم نہیں جانتے کہ تو نے اس سے پہلے کوئی گناہ کیا ہو۔آج تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ایسے ہی عذر کیوں نہ کئے جیسے دوسرے متخلفوں نے کئے تھے۔تیرے گناہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار کافی تھا۔مجھے خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ وہ لوگ ایسے میرے پیچھے ہوئے کہ ان کے کہنے سے میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ لوٹ کر رسول اللہ