خطبات نور — Page 157
157 اگر چہ ان کے متم اپنے فرائض کو کما حقہ بجا نہیں لاتے مگر تاہم ان کا ہونا غنیمت ہے۔خدا تعالی فرمات ہے فَإِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلُّ (البقره:۳۲۔تو ان سب اخراجات کو مد نظر رکھنا اور ان موقعوں پر خرچ کرنا چاہئے۔جو اہم امور ہیں وہاں اہم اور جو اس سے کم ہیں وہاں کم۔درجہ بدرجہ ہر ایک کا خیال رکھو۔اس وقت اور خرچ کی یہ مثال ہے جیسے ایک کسان تھوڑے سے دانے ہو کر اور کھیت کو خدا کے سپرد کر کے چلا آتا ہے اور اگر چہ ان میں سے کچھ ضائع ہوتے ہیں۔پرندے کھاتے ہیں۔لیکن پھر بھی منوں غلہ ان سے پیدا ہوتا ہے۔مگر بے وقت بونے سے وہ پیداوار محال ہے جو وقت پر بیج بونے سے حاصل ہو سکتی ہے۔غرضیکہ ہر ایک چاند کو غنیمت جانو اور اپنی بہتری کنبہ کی بہتری، خلق اللہ کی بہتری کو ہر وقت مد نظر رکھو اور نیک سلوک سے سب سے پیش آؤ۔اس وقت جو مراتب تم کو مل سکتے ہیں پھر نہیں ملیں گے۔اب ایک پیسہ سے جو کام نکلتا ہے وہ پھر ہزاروں کے خرچ سے نہ نکلے گا۔خدا سے قوت مانگو کہ وہ نیکی کرنے کی اور بدی کو ترک کرنے کی توفیق دیوے۔جس قدر بچے یہاں بورڈنگ میں رہتے ہیں وہ سب ہمارے بچے ہیں۔ان کے لئے دعا کرتا ہوں کہ وہ بچے علوم میں ترقی کریں اور نیک بنیں۔آمین۔بدر جلد ۳ نمبر --- یکم جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۲ تا۶) ا حکم جلد ۸ نمبر ۳--- ۲۴/ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۱۲ تا ۱۴)