خطبات نور — Page 156
156 ہرگز نہیں ہو سکتیں جو کہ فتح مکہ سے پیشتر ایمان لائے اور نہ ان کی ان کے سامنے کچھ قدر ہے۔پس یاد رکھو کہ امام کے ماننے کا ایک وقت ہوتا ہے۔اسے ہاتھ سے کھونانادانی ہے اور اس کے ساتھ ہو کر خرچ کرنے میں بڑی برکات ہوتی ہیں اور اس خرچ کا یہی وقت ہے۔اگر تم کرو گے تو خدا اس کا اجر اپنے ذمہ نہ رکھے گا۔اس کے لئے خدا نے ہر ایک سلیم فطرت میں ایک نظیر رکھ دی ہے کہ جب کوئی کسی سے سلوک کرے یا نیکی کرے تو ایک سلیم الفطرت انسان کبھی گوارا نہیں کرتا کہ اسے بدلہ نہ دیا جاوے اور دل میں اس کی عظمت گھر نہ کرے۔تو اب سوچ لو جس نے فطرت میں یہ بات رکھ دی ہے وہ آپ کیسے گوارا کرے گا کہ کسی کی نیکی کا بدلہ نہ دے۔وہ بڑا غنی ہے۔اس کی راہ میں اس کی رضامندی کے لئے جو کچھ خرچ کیا جاتا ہے وہ ضرور بدلہ دیتا ہے۔لمبے لمبے وعظ و نصیحت میں کیا کروں۔میں مجدد ملہم مامور یا مسیح نہیں ہوں۔جو ہے اس نے کشتی نوح بنا کر تمہارے آگے رکھ دی ہے۔وہ جدھر بلانا چاہتا ہے ادھر جانا تو درکنار ہمارا تو رخ بھی ابھی اس طرف نہیں۔وہ کہتا ہے کہ مجھ کو بڑے بڑے خاردار جنگل جس میں لوہے کے کانٹے ہیں اور دشوار گزار راہیں طے کرنی ہیں۔نازک پاؤں والے میرے ساتھ نہیں چل سکتے۔پھر میں نے اسے یہ بھی کہتے سنا ہے کہ جس چشمہ سے میں تم کو پلانا چاہتا ہوں اس میں سے ابھی کسی نے پانی نہیں پیا۔اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ بہت سی باتیں کہنے کے لائق ہیں مگر میں تم میں ان کی قبولیت اور برداشت کا مادہ نہیں پاتا اس لئے نہیں کہتا۔پس اگر یہ سب باتیں تمہاے کام نہیں آتیں اور تم کو نفع نہیں بخشتیں تو میرا کو را بیان کیا فائدہ دے سکتا ہے؟ اس لئے تمہارے لئے ضروری ہے کہ اس وقت کی قدر کرو۔اگر یہ ہاتھ سے نکل گیا تو پھر ہزاروں برس کے انتظار کے بعد بھی نہ ملے گا۔خرچ کرنے کا اور نفس کے تزکیہ حاصل کرنے کا یہی وقت ہے۔نفس کا تزکیہ امام کے ساتھ ہو کر مال خرچ کرنے سے بھی ہوا کرتا ہے۔وہ اب موجود ہے اور اس سے پیوند ہونے کا موقع ہے۔اگر یہ چلا گیا تو میرے جیسے واعظوں کا کیا ہے۔۱۳۰۰ برس سے وعظ ہوتے ہی آئے ہیں۔دعا کرو اور وقت کا مطالعہ کرو اور خدا سے قوت طلب کرو کہ وہ ان باتوں کی توفیق عطا کرے۔مثلاً خرچ کرنے کے یہاں بڑے موقعے ہیں۔مہمان خانہ ہے۔لنگر خانہ ہے۔مدرسہ ہے۔پھر بعض لوگ آتے ہیں لیکن وہ بے خرچ ہوتے ہیں۔ان کو خرچ کی ضرورت پڑتی ہے۔اور بعض دولتمند بھی آتے ہیں اور میں نے اکثر دفعہ لوگوں کو کہا ہے کہ وہ آکر اپنا سامان وغیرہ میرے حوالہ کر کے رسید لے لیا کریں کہ تم نہ ہوا کرے۔مگر وہ ایسا نہیں کرتے۔اور ان کا سامان گم ہو جاتا ہے اور امداد کی ضرورت ان کو آپڑتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ محض ابْتَغَاء لِوَجهِ الله یہاں رہتے ہیں۔پھر دو اخبار بھی ہیں۔