خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 150 of 703

خطبات نور — Page 150

150 روپیہ بٹورنے کی ہوتی ہے۔بہت سے ایسے کہ لوگ ان کے وعظ اور تقریر کی تعریف کریں اور بعض ایسے بھی ہوتے ہوں گے جو کہ محض خدا کے واسطے وعظ کرتے ہوں۔اسی طرح سننے والوں کا حال ہے۔میں طبیب ہوں اس لئے بعض لوگ صرف اسی لحاظ سے وعظ سنتے ہوں گے کہ ان کا علاج بھی اچھی طرح کروں اور کسی کی کچھ اور کسی کی کچھ غرض ہو گی اور بعض ایسے بھی ہوں گے کہ محض خدا کے لئے سنتے ہوں۔غرض وعظوں کے سننے اور سنانے والے مختلف اغراض لئے ہوتے ہیں۔جو خدا کے لئے سنتے اور سناتے ہیں ان کو چھوڑ کر باقیوں کے لئے یہ علم بڑی مشکلات کا موجب ہوتا ہے اور وبال جان ہوتا ہے۔کیونکہ اس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوتی ہے اور انسان سن یا سنا کر خود ہی اس میں پھنس جاتا ہے۔عالموں سے قیامت کے دن سوال ہو گا کہ تم خود اپنے علم پر عامل تھے کہ نہیں ؟ تم تکبر کا وعظ کرتے تھے لیکن خود تکبر سے خالی نہ تھے۔تم بغض اور کینہ سے بچنے کی نصیحت لوگوں کو کرتے تھے مگر خود نہیں بچتے تھے۔تم ریا کاری سے لوگوں کو روکتے تھے مگر خود نہیں رکھتے تھے۔یہ روحانی بیماریاں ہیں جن کا علاج انسان کے لئے ضروری ہے۔چاہئے کہ علم کے مطابق تمہارا عمل ہو۔ایک مزکی النفس انسان سے مستفید ہونے کی راہ لوگوں کے اندر کمزوریاں بھی ہوتی ہیں۔اس لئے خدا کی رحمت کا یہ بھی تقاضا ہوتا ہے کہ وہ ان کے لئے ایک مزکی نفس انسان پیدا کرتا ہے جو کہ اپنے نفس اور خواہش سے کچھ نہیں کرتا۔خدا کے بلائے بولتا ہے۔اس کی زبان خدا کی زبان ہوتی ہے۔اس کی آنکھیں خدا کی آنکھیں یا خدا کی آنکھیں اس کی آنکھیں ہوتی ہیں۔اس کے ہاتھ خدا کے ہاتھ یا خدا کے ہاتھ اس کے ہاتھ ہوتے ہیں۔وہ خدا کی طرف سے آتا ہے اور ایک مقناطیسی قوت اپنے ساتھ رکھتا ہے تاکہ لوگ اس کے ساتھ تعلق پیدا کر کے اپنے اپنے نفوس کا تزکیہ کریں اور یہ تعلق ایسا مضبوط ہو جیسے ایک درخت کی شاخ پورے طور پر اپنے تنے سے پیوستہ ہوتی ہے۔ایسا ہی یہ بھی صدق و صفا اور اخلاص اور پوری اطاعت کے ساتھ اس کے ساتھ پیوستہ ہو تو تزکیہ کی اس روح سے جو مزکی کے اندر ہوتی ہے فائدہ اٹھا سکے گا۔ورنہ اس کا نشو و نما ہرگز ممکن نہیں۔