خطبات نور — Page 149
149 روح کا علاج ضروری ہے اور اس کا ایک ہی نسخہ ہے میرے پاس بیمار آتے ہیں۔ان کی اور اپنی حالت پر حیران ہوا کرتا ہوں کہ جس جسم کے آرام کے لئے یہ اس قدر تکلیف برداشت کر کے اور اخراجات اور مصائب سفر کے زیر بار ہو کر میرے پاس آتے ہیں اسے یہ آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں ضرور چھوڑ دیں گے۔لیکن پھر بھی ذرا سے دکھ سے آرام پانے کے لئے ترک وطن کرتے ہیں۔عزیز و اقارب کو چھوڑتے ہیں۔اور ان کی بڑی آرزو یہ ہوتی ہے کہ جس طرح ہو آپ جلدی ٹوٹ جاوے لیکن روح کی بیماری کی کسی کو فکر نہیں ہے۔اس کے واسطے نہ کوئی تڑپ نہ رنج والم۔حالانکہ جانتے ہیں کہ مرنے کے بعد اعمال کے جوابدہ ہوں گے اور یہاں بھی برابر ہوتے رہتے ہیں۔آتشک والے مریض کو اس کے اعمال کی جو پاداش ملتی ہے وہی اسے خوب جانتا ہے۔اسی طرح بد نظری اور بدکاری کی عادتیں جو پڑتی ہیں پھر انسان ہزار جتن کرے ان کا دور ہونا بغیر خاص فضل الہی کے بہت مشکل ہوتا ہے اور اس کے بڑے بڑے دکھ دینے والے نتیجے اسے برداشت کرنے پڑتے ہیں۔جب یہ حال ہے اور جسم کی اوٹی اوٹی سی ایڈا کی تم کو فکر ہے تو روح کا کیوں فکر نہیں کرتے۔روح کی بیماریوں کے علاج کا ایک ہی نسخہ ہے جس کا نام قرآن شریف ہے۔اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بدکار لوگ کہیں گے لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ (الملك) کہ اگر ہم خدا کے فرستادوں کی باتوں کو کان دھر کر سنتے اور عقل سے کام لیتے تو آج ہم دوزخیوں میں سے نہ ہوتے۔یہ حسرت ان کو کیوں ہو گی ؟ صرف اس لئے کہ وقت ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور اب پھر ہاتھ نہیں آسکتا۔پس روح کی بیماری کا بھی علاج ہے کہ وقت کو ہاتھ سے نہ گنواوے اور اس نور اور شفا کتاب قرآن شریف پر عملدرآمد کرے۔اپنے حال اور قال اور حرکت اور سکون میں اسے دستور العمل بنا دے۔عبرت پکڑنے کے میں دو مرحلے اوپر بیان کر آیا ہوں۔تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ واعظ کا وعظ انسان کی ہدایت کے لئے کافی نہیں ہوتا۔آج سے کئی سو برس پیشتر ایک تجربہ کار کہتا ہے۔مشکل دارم ز دانشمند مجلس باز پرس تو بہ فرمایاں چرا خود تو به کمتر می کنند میری طرح بہت سے واعظ کھڑے ہوتے ہیں۔بہت سے ان میں سے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی نیت