خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 140 of 703

خطبات نور — Page 140

140 کوثر عطا فرماتا۔میں دیکھتا ہوں کہ جھوٹ بولنے میں دلیر، فریب و دعا میں بیباک ہو رہے ہیں۔نمازوں میں ستی قرآن کے سمجھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیا جاتا ہے اور سب سے بد تر ستی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال چلن کی خبر نہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ عیسائی اور آریہ آپ کے چال چلن کو تلاش کرتے ہیں اگر چہ اعتراض کرنے کے لئے ، مگر کرتے تو ہیں۔مسلمانوں میں اس قدر سستی ہے کہ وہ کبھی دیکھتے ہی نہیں۔اس وقت جتنے یہاں موجود ہیں ان کو اگر پوچھا جاوے تو شاید ایک بھی ایسا نہ ملے جو یہ بنا سکے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی معاشرت کیسی تھی۔آپ کا سونا کیسا تھا جاگنا کیسا۔مصائب اور مشکلات میں کیسے استقلال اور علو ہمتی سے کام لیا اور رزم میں کیسی شجاعت اور ہمت دکھائی۔میں یقیناً کہتا ہوں کہ ایک بھی ایسا نہیں جو تفصیل کے ساتھ آپ کے واقعات زندگی پر اطلاع رکھتا ہو۔حالا نکہ یہ ضروری بات تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حالات زندگی پر پوری اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی۔کیونکہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ آپ دن رات میں کیا کیا عمل کرتے تھے اس وقت تک ان اعمال کی طرف تحریک اور ترغیب نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کی محبت یا اس کے محبوب بننے کا ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع ہے۔پھر یہ اتباع کیسے کامل طور پر ہو سکتی ہے جب معلوم ہی نہ ہو کہ آپ کیا کیا کرتے تھے ؟ اس پہلو میں بھی مسلمانوں نے جس قدر اس وقت سستی اور غفلت سے کام لیا ہے وہ بہت کچھ ان کی ذلت اور ضعف کا باعث ٹھہرا۔اس ضروری کام کو تو چھوڑا پر مصروفیت کس کام میں اختیار کی؟ نفسانی خواہشوں کے پورا کرنے میں۔چائے پی لی۔حقہ پی لیا۔پان کھا لیا۔غرض ہر پہلو اور ہر حالت سے دنیوی امور میں ہی مستغرق ہو گئے۔مگر پھر بھی آرام اور سکھ نہیں ملتا۔ساری کوششیں اور ساری تگ و دو دنیا کے لئے ہی ہوتی ہے اور اس میں بھی راحت نہیں۔لیکن جو خدا تعالیٰ کے ہو جاتے ہیں ان کو وہ دیتا ہے تو پھر کس قدر دیتا ہے اور ساری راحتوں کا مالک اور وارث بنا دیتا ہے۔میں نے پہلے بتا دیا ہے کہ جتنا چھوٹا ہوتا ہے اس کا اتنا ہی دینا ہوتا ہے۔اور جس قدر بڑا اسی قدر اس کی دہش ہوتی ہے۔جس قدر کبریائی اللہ تعالیٰ رکھتا ہے اسی کے موافق اس کی عطا ہے اور اس کی عطا کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوتا۔میں نے ایک دنیا دار کو دیکھا ہے۔وہ میرا دوست بھی ہے۔میں کلکتہ میں اس کے مکان پر تھا۔اس نے مجھے دکھایا کہ وہ ایک ایک دن میں چار چار پانچ پانچ سو روپیہ کیسے کما لیتا ہے۔مگر تھوڑا ہی عرصہ گزرا