خطبات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 139 of 703

خطبات نور — Page 139

139 مانگتا ہے وہ پاتا ہے۔اس اصل کو لیکر میں نے غور کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو اس پہلو سے بھی کیا کچھ ملا ہے۔تیرہ سو برس سے برابر امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے لئے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ کہہ کر دعائیں کر رہی ہے اور پھر اللہ اور اللہ کے فرشتے بھی اس درود شریف کے پڑھنے میں شریک ہیں اور ہر وقت یہ دعا ہو رہی ہے کیونکہ دنیا پر کسی نہ کسی نماز کا وقت موجود رہتا ہے اور علاوہ نماز کے پڑھنے والے بھی بے انتہا ہیں۔اب سوچو کہ اس تیرہ سو برس کے اندر کس قدر روحوں نے کس سوز اور تڑپ کے ساتھ اپنے محبوب آقا کی کامیابیوں اور آپ کے مدارج عالیہ کی ترقی کے لئے اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ کہہ کر دعائیں مانگی ہوں گی۔پھر ان دعاؤں کے شمرہ میں جو کچھ آپ کو ملا کیا اس کی کوئی حد ہو سکتی ہے؟ اگر دعا کوئی چیز ہے اور ضرور ہے تو پھر اس پہلو سے آپ کے مدارج اور مراتب کی نظیر پیش کرو۔کیا دنیا میں کوئی قوم اور امت ایسی ہے جس نے اپنے نبی اور رسول کے لئے یہ التزام دعا کا کیا ہو۔کوئی بھی نہیں۔کوئی عیسائی مسیح کے لئے یہودی موسی کے لئے، سناتنی شنکر اچارج کے لئے دعائیں مانگنے والا نہیں ہے۔اس دنیا کے مدارج کو تو ان امور پر قیاس کرو اور آگے جو کچھ آپ کو ملا ہے وہ وہاں چل کر معلوم ہو جاوے گا۔مگر اس کا اندازہ اسی بہت کچھ سے ہو سکتا ہے کہ برزخ میں حشر میں، صراط پر بہشت میں غرض کو ثر ہی کو ثر ہو گا۔اس عاجز انسان اور اس کی ہستی کو دیکھو کہ کیسی ضعیف اور ناتوان ہے لیکن جب اللہ تعالی اس کے بنانے پر آتا ہے تو اس عاجز انسان کو اپنا بنا کر دکھا دیتا ہے اور ایک اجڑی بستی کو آباد کرتا ہے۔کیا تعجب انگیز نظارہ ہے۔بڑے بڑے شہروں اور بڑے اکثر باز مدبروں کو محروم کر دیتا ہے حالانکہ وہاں ہر قسم کی ترقی کے اسباب موجود ہوتے ہیں اور علم و واقفیت کے ذرائع وسیع۔مثلاً اس وقت دیکھو کہ کسی بستی کو اس نے برگزیدہ کیا؟ جہاں نہ ترقی کے اسباب نہ معلومات کی توسیع کے وسائل نہ علمی چرچے نہ مذہبی تذکرے نہ کوئی دار العلوم، نہ کوئی کتب خانہ ! صرف خدائی ہاتھ ہے جس نے اپنے بندہ کی خود تربیت کی اور عظیم الشان نشان دکھایا۔غور کرو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ ثابت کرتا ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو کوثر عطا فرمایا۔لیکن غافل انسان نہیں سوچتا۔افسوس تو یہ ہے کہ ج اور لوگوں نے غفلت کی ، ویسی ہی غفلت کا شکار مسلمان ہوئے۔آہ! اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عالی مدارج پر خیال کرتے اور خود بھی ان سے حصہ لینے کے آرزو مند ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی