خطبات نور — Page 135
135 سنتے ہیں کہ اس کو سن کر اپنی اصلاح کریں اور دوسرے جو اس لحاظ سے سنتے ہیں کہ واعظ ان کا دوست ہے یا کوئی ایسے ہی تعلق رکھتا ہے یعنی واعظ کی خاطر داری سے۔اب تم دیکھ لو کہ تمہارا واعظ کیسا ہے اور تم سننے والے کیسے ؟ تمہارا دل تمہارے ساتھ ہے؟ اس کا فیصلہ تم کر لو۔جس نیت اور غرض سے کھڑا ہوا ہوں وہ میں خوب جانتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ درد دل کے ساتھ خدا ہی کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک تقسیم فرمائی ہے کہ واعظ یا مامور ہوتا ہے یا امیر یا متکبر۔امیر وہ ہوتا ہے جس کو براہ راست اس کام کے لئے مقرر کیا جاوے اور مامور وہ ہوتا ہے جس کو امیر کے کہ تم لوگوں کو وعظ سنا دو اور متکبر وہ جو محض ذاتی بڑائی اور نمود کے لئے کھڑا ہوتا ہے۔یہ اقسام واعظوں کی ہیں۔اب میں پھر تمہیں کہتا ہوں کہ اس بات پر غور کرو کہ تمہیں وعظ کرنے والا کیسا ہے اور تم کیسا دل لے کر بیٹھے ہو ؟ میرا دل اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ناظر ہے۔جو بات میری سمجھ میں مضبوط آئی ہے اسے سنانا چاہتا ہوں اور خدا کے لئے۔پھر مجھے حکم ہوا ہے تم مسجد میں جا کر نماز پڑھا دو۔اس حکم کی تعمیل کے لئے کھڑا ہوتا ہوں اور سناتا ہوں۔میں دنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود ان کے حوصلے چھوٹے خیالات پست ہوتے ہیں۔جس واعظ کی اغراض نہ ہوں وہ ایک ایسی زبر دست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دنیوی وعظ سب اس کے اندر آجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک امر بالمعروف کرتا ہے۔ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا ہے اور ہر بری بات سے روکنے والا ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف کو اللہ تعالیٰ نے مُهيمن فرمایا۔یہ جامع کتاب ہے جس میں جیسے ایک ملٹری (فوجی) واعظ کو فتوحات کے طریقوں اور قواعد جنگ کی ہدایت ہے ویسے ہی نظام مملکت اور سیاست مدن کے اصول اعلیٰ درجہ کے بتائے گئے ہیں۔غرض ہر رنگ اور ہر طرز کی اصلاح اور بہتری کے اصول یہ بتاتا ہے۔پس میں قرآن کریم جیسی کتاب کا واعظ ہوں جو تمام خوبیوں کی جامع کتاب ہے اور جو سکھ اور تمام کامیابی کی راہوں کی بیان کرنے والی ہے اور اسی کتاب میں سے یہ چھوٹی سی سورۃ میں نے پڑھی ہے۔قرآن کا طرز بیان ہم " اور "میں" میں اس سورۃ کے مطالب بیان کرنے سے پہلے یہ بات بھی تمہارے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ