خطبات نور — Page 134
134 واعظوں اور سامعین کی اقسام ان کو بیان کرنے سے پہلے نیں ایک ضروری بات سنانی چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جہاں تک میں غور کرتا ہوں واعظوں اور سننے والوں کی دو قسم پاتا ہوں۔ایک وہ واعظ ہیں جو دنیا کے لئے وعظ کرتے ہیں۔دنیا کا وعظ کرنے والے بھی پھر دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو اپنے وعظ سے اپنی ذات کا فائدہ چاہتے ہیں یعنی کچھ روپیہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ایک وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ خود کوئی روپیہ حاصل کریں مگر یہ مطلب ضرور ہوتا ہے کہ سننے والوں کو ایسے طریقے اور اسباب بتائیں جن سے وہ روپیہ کما سکیں۔مادی ترقی کرنے والے بنیں۔دنیا کے لئے وعظ کرنے والوں میں اس قسم کے واعظوں کی اغراض ہمیشہ مختلف ہوتی ہیں۔کوئی فوجوں کو جوش دلاتا ہے، ان میں مستعدی اور ہوشیاری پیدا کرنے کے لئے تحریک کرتا ہے کہ وہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چست و چالاک ہو جائیں۔کوئی امور خانہ داری کے متعلق کوئی تجارت اور حرفہ کے لئے۔مختصر یہ کہ ان کی غرض انتظامی امور یا عامہ اصلاح ہوتی ہے جو دو سرے الفاظ میں سیاسی یا پولٹیکل ، تمدنی یا سوشل اصلاح ہے۔اور وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں۔ایک وہ جو محض اس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرض ان کو ملا ہے اس کو ادا کریں۔بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں اور اپنے آپ کو اس خیر امت میں داخل ہونے کی فکر ہوتی ہے جس کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ للنَّاسِ (ال عمران ) تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو۔امر بالمعروف کرتے ہو اور نہی عن المنکر اور ایک وہ ہوتے ہیں جن کی غرض دنیا کمانا بھی نہیں ہوتی مگر (مذکورہ بالا) یہ غرض بھی نہیں ہوتی بلکہ وہ صرف حاضرین کو خوش کرنا چاہتے ہیں یا ان کی واہ واہ کے خواہش مند کہ کیسا خوش تقریر یا مؤثر واعظ ہے۔دینی واعظوں میں سے پہلی قسم کے واعظ بھی فتوحات ہی کا ارادہ کرتے ہیں مگر ملکی فتوحات سے ان کی فتوحات نرالی ہوتی ہیں۔ان کی فتوحات یہ ہوتی ہیں کہ برائیوں پر فتح حاصل کریں۔نیکی کی حکومت کو وسیع کریں۔جیسی واعظوں کی دو قسم میں ایسی ہی سننے والوں کی بھی دو حالتیں ہیں۔ایک وہ جو محض اللہ کے لئے