خطبات نور — Page 126
126 کے ساتھ جناب الہی کے حضور پیش ہو اور یہی نماز ہے۔نماز ظاہری پاکیزگی ہاتھ منہ دھونے اور ناک صاف کرنے اور شرمگاہوں کو پاک کرنے کے ساتھ یہ تعلیم دیتی ہے کہ جیسے میں اس ظاہری پاکیزگی کو ملحوظ رکھتا ہوں اندرونی صفائی اور پاکیزگی اور کچی طہارت عطا کر اور پھر اللہ تعالیٰ کے حضور سبحانیت قدوسیت، مجدیت، پھر ربوبیت رحمانیت، رحیمیت اور اس کے ملک ملک میں تصرفات اور اپنی ذمہ واریوں کو یاد کر کے کہ اس قلب کے ساتھ ماننے کو تیار ہوں، سینہ پر ہاتھ رکھ کر تیرے حضور کھڑا ہوتا ہوں۔اس قسم کی نماز جب پڑھتا ہے تو پھر اس کی وہ خاصیت اور اثر پیدا ہوتا ہے جو إِنَّ الصَّلوةَ تنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ «النحل) میں بیان ہوا ہے۔پھر پاک کتاب کا کچھ حصہ پڑھے اور رکوع کرے اور غور کرے کہ میری عبودیت اور نیازمندی کی انتہا بجز سجدہ کے اور کوئی نہیں۔جب اس قسم کی نماز پڑھے تو وہ نیاز مندی اور سچائی جب اعضاء اور جوارح پر اپنا اثر کر چکی تو اور جوش مار کر ترقی کرے گی اور اس کا اثر مال پر پڑے گا اور ایک مقررہ حصہ اپنے مال کا دے گا۔جیسے آج کے دن بھی صدقۃ الفطر ہر شخص پر غنی ہو، تر ہو یا عبد، غرض سب پر واجب ہے کہ صدقہ دے تاکہ روزوں کے لئے طہر کا کام دے اور نماز سے پہلے ایک مقام پر جمع کرے۔وحدت کی ضرورت اس بات کی بڑی ضرورت ہے کہ وحدت پیدا ہو۔اسلام کے ہر امر میں وحدت کی روح پھونکی گئی ہے۔جب تک وحدت نہ ہو اس پر اللہ کا ہاتھ نہیں ہوتا جو جماعت پر ہوتا ہے۔میں درختوں کو دیکھ کر سوچتا ہوں کہ اگر ایک ایک پتہ کہے کہ میں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں اور اپنے رب سے مانگتا ہوں وہ مجھے سرسبز کر دے گا۔کیا وہ الگ ہو کر سرسبز رہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ مرجھا جائے گا اور ادنیٰ سے جھونکے سے گر جائے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ ایک شاخ سے اس کا تعلق ہو اور پھر اس شاخ کا کسی بڑی شاخ سے اور اس کا کسی بڑے تنے سے تعلق ہو جو جڑ اور اس کی رگوں سے اپنی خوراک کو جذب کرے۔یہ کچی مثال ہے۔جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا بیج لگاتا ہے تو جو شاخ اس سے الگ ہو کر بار آور اور شمردار ہونا چاہے وہ نہیں رہ سکتی خواہ اسے کتنے ہی پانی میں رکھو۔وہ پانی اس کی سرسبزی اور شادابی کی بجائے اس کے سڑنے کا موجب اور باعث ہو گا۔پس وحدت کی ضرورت ہے اسی لئے صدقۃ الفطر بھی ایک ہی جگہ جمع ہونا چاہئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عید سے پہلے یہ صدقہ جمع ہو جاتا اور ایسے ہی زکوۃ کے اموال بڑی احتیاط سے اکٹھے کئے جاتے یہاں تک کہ منکرین کے لئے قتل کا