خطبات نور — Page 125
125 مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ (الفاتحة) ہے۔روز روشن کی طرح اس کی جزائیں سزائیں ہیں اور وہ مخفی نہ ہوں گی اور مالکانہ رنگ میں آئیں گی جیسے مالک اچھے کام پر انعام اور برے کام پر سزا دیتا ہے۔اس حصہ پر ایمان لا کر انسان کامیاب ہو جاتا ہے مگر اس میں سستی اور غفلت کرنے سے ناکام رہتا ہے اور قرب الہی کی راہوں سے دور چلا جاتا ہے۔دوسرا سوال پھر دوسرا سوال جو جبرائیل نے تعلیم الدین کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور آپ نے اس کا جواب دیا وہ ہے مَا الْإِسْلام؟ اس کا جواب جو پاک انسان خاتم الانبیاء و خاتم الاولیاء خاتم الکمالات کی زبان سے نکلا وہ یہ ہے۔اَنْ تَشْهَدَ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا الله (بخاری کتاب الایمان)۔جو بات انسان کے دل سے اٹھتی ہے ضرور ہے کہ اس کا اثر اس کے اعضاء جوارح اور مال پر پڑے۔کون نہیں سمجھتا کہ شجاعت اگر اندر ہو تو وہ اپنے ہاتھ بازو اور اعضا سے محل و موقع پر اس کا ثبوت نہ دے گا۔اگر وہ موقع پر بھاگ جاتا اور بزدلی ظاہر کرتا ہے تو کوئی اس کو شجاع نہیں کہہ سکتا۔اسی طرح سخاوت ایک عمدہ جو ہر ہے لیکن اگر اس کا اثر مال پر نہیں پڑتا تو وہ سخاوت نہیں، بخل ہے۔ایسا ہی عفت ایک عمدہ صفت ہے۔ضرور ہے کہ جس میں یہ صفت ہو وہ بد نظری اور بے حیائی سے بچے اور تمام فواحش اور ناپاک کاموں سے پر ہیز کرے۔اسی طرح جس کے اندر قناعت ہو ضروری ہو گا کہ وہ دوسروں کے مال پر بے جا تصرف سے پر ہیز کرے گا۔غرض یہ ضروری بات ہے کہ جب اندر کوئی بات ہو تو اس کا اثر جوارح اور مال پر ضرور ہوتا ہے۔پس اگر سچی نیازمندی فرمانبرداری، تحریک ملائکہ کتابوں، ماموروں خلفاء اور مصلحوں کی اطاعت میں ہو اور دل میں یہ بات ہو تو زبان پر ضرور آئے گی اور وہ اظہار کرے گا۔اگر سچائی سے کسی انسان کو مانا ہوا ہو اور اس کے اظہار سے مضائقہ ہو تو یاد رکھو دل کمزور ہے۔اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ کے اسماء پر کامل یقین ہو اور اس کے رسولوں پر ملائکہ پر اور کتابوں اور انبیاء پر یقین ہو اور ایسا ہی اس یقین میں ان کا ثواب اور اللہ کا قرب داخل ہو تو اس یقین کا اثر زبان پر آتا ہے اور وہ ایک لذت کے ساتھ کہہ اٹھتا ہے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - بے ریب سید الاولین والآخرین، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کامل صفات والا انسان کل سچائیوں اور علوم حقہ کالانے والا ہے۔جب یہ اقرار اور وہ ایمان ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کچی نیازمندی