خطبات نور — Page 99
99 ایسا ہوتا ہے کہ خیر و برکت والی باتوں سے نفرت ہو جاتی ہے۔یا تو اس کے حضور آنے ہی کا موقع نہیں ملتا یا موقع تو ملتا ہے لیکن انتفاع کی توفیق نہیں پاتا۔رفتہ رفتہ اللہ سے بعد ملائکہ سے دوری اور پھر وہ لوگ جن کا تعلق ملائکہ سے ہوتا ہے ان سے بعد ہو کر کٹ جاتا ہے۔اس لئے ہر ایک عقلمند کا فرض ہے کہ وہ توبہ کرے اور غور کرے۔ہم نے بہت سے مریض ایسے دیکھے ہیں جن کو میٹھا تلخ معلوم دیتا ہے اور تلخ چیزیں لذیذ معلوم ہوتی ہیں۔کسی نے مجھ سے ملنذ ذ نسخہ مانگ میں نے اسے مصبر۔کچلہ شہد ملا کر دیا۔اس نے کہا کہ بڑا ملذذ ہے۔یہ نتیجہ ہوتا ہے انسان کے معاصی کا۔ان کی بصر اور بصیرت جاتی رہتی ہے اور ان کی آنکھیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے چہروں پر نگاہ کر کے اہل بھرا نہیں اسی طرح دیکھتے ہیں جیسے ساپ بندر خنزیر کو دیکھتے ہیں۔اس لئے مومن کو چاہئے کہ خدا کی حمد اور تسبیح کرتا رہے اور اس سے حفاظت طلب کرتا رہے۔جیسے ایمان ہر نیکی کے مجموعہ کا نام ہے اسی طرح ہر برائی کا مجموعہ کفر کہلاتا ہے۔ان کے ادنی اور اوسط اور اعلیٰ تین درجے ہیں۔پس امید و بیم ، رنج و راحت، عسرویس میں قدم آگے بڑھاؤ اور اس سے حفاظت طلب کرو۔غور کرو حفاظت طلب کرنے کا حکم اس عظیم الشان کو ہوتا ہے جو خاتم الانبیاء اصفی الاصفیاء سید ولد آدم ہے، صلی اللہ علیہ وسلم ، تو پھر اور کون ہے جو طلب حفاظت سے غنی ہو سکتا ہے؟ مایوس اور ناامید مت ہو۔ہر کمزوری، غلطی بغاوت کے لئے دعا سے کام لو۔دعاسے مت تھکو۔یہ دھو کامت کھاؤ جو بعض ناعاقبت اندیش کہتے ہیں کہ انسان ایک کمزور ہستی ہے، خدا اس کو سزا دے کر کیا کرے گا؟ انہوں نے رحمت کے بیان میں غلو کیا ہے۔کیا وہ اس نظارہ کو نہیں دیکھتے کہ یہاں بعض کو رنج اور تکلیف پہنچتی ہے۔پس بعد الموت عذاب نہ پہنچنے کی ان کے پاس کیا دلیل ہو سکتی ہے ؟ یہ غلط راہ ہے جو انسان کو کمزور اور سست بنادیتی ہے۔بعض نے یاس کو حد درجہ تک پہنچا دیا ہے کہ بدیاں حد سے بڑھ گئی ہیں اب بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔استغفار اس سے زیادہ نہیں کہ زہر کھا کر کلی کرلی۔یہ بھی سخت غلطی ہے۔استغفار انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔اس میں گناہ کے زہر کا تریاق ہے۔پس استغفار کو کسی حال میں مت چھوڑو۔پھر آخر میں کہتا ہوں کہ نبی کریم" سے بڑھ کر کون ہے؟ وہ أَخْشَى لِلَّهِ أَتْقَى لِلَّهِ - أَعْلَمُ بِاللهِ انسان تھا، صلی اللہ علیہ وسلم۔پس جب اس کو استغفار کا حکم ہوتا ہے تو دوسرے لاابالی کہنے والے کیونکر ہو سکتے ہیں۔پس جنہوں نے اب تک اس وقت کے امام راستباز کے ماننے کے لئے قدم نہیں اٹھایا اور دبدھا میں ہیں وہ استغفار سے کام لیں کہ ان پر سچائی کی راہ کھلے اور جنہوں نے خدا کے۔