خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 56

خطبه الهاميه ۵۶ اردو ترجمہ البيان فقد مان واغضب بیان کو جھٹلایا پس اس نے جھوٹ بولا ہے اور الرحمن فويل للذی شک اپنے خدا کے غصے کو بھڑ کا یا ہے پس افسوس اس و فسخ العهد و فک و لوث آدمی پر جس نے شک کیا۔اور عہد کو توڑا اور بطائف من الجنّ الجنان و انّی دل کو شیطان کے وسوسہ سے آلودہ کیا اور جئت من الحضرة الرفيعة العالية۔میں بڑی اونچی درگاہ سے آیا ہوں تا میرا خدا لیری بی ربی من بعض صفاته میرے ذریعہ بعض اپنی جلالی اور جمالی صفتیں الجلالية والجمالية اعنى دفع دکھلاوے یعنی شر کا دور کرنا اور بھلائی کا پہنچانا الضير وافاضة الخير فان الزمان کیونکہ زمانہ کو اس بات کی حاجت تھی کہ اس (۲۲) كان محتاجا الى دافع شر طغی بدی کو دور کیا جائے جو حد سے بڑھ گئی تھی اور والی رافع خیر انحط و اختفی اس نیکی کو بلند کیا جائے جو جاتی رہی تھی۔اس فاقتضت العناية الالهية ان لئے خدا کی عنایت نے چاہا کہ زمانہ کو وہ چیز يعطى الزمان ماسأل بلسان دی جاوے جسے وہ اپنی زبان حال سے مانگتا الحال ويرحم طبقات ہے اور مردوں اور عورتوں پر رحم کیا جائے النساء والرجال۔فجعلنی مظهر پس مجھ کو مسیح عیسے بن مریم کا مظہر بنایا تا کہ المسيح عيسى ابن مریم لدفع ضرر اور گمراہی کے مادوں کو دور فرمادے الضر وابادة مواد الغواية اور مجھ کو مہدی احمد اکرم کا مظہر بنایا تاکہ وجعلني مظهر النبي المهدی لوگوں کو فائدہ پہنچاوے اور درایت اور احمد اكرم لافاضة الخير واعادة ہدایت کی بارش کو دوبارہ اتارے اور لوگوں عهاد الدراية والهداية۔وتطهير کو غفلت اور گناہگاری کے میل سے پاک الناس من دَرَن الغفلة والجناية۔کرے پس میں زرد رنگ والے دو لباسوں (٢٣) فَجِئْتُ في الحلتين المهزودتین میں آیا ہوں جو جلال اور جمال کے رنگ سے المصبغتين بصبغ الجلال رنگے ہوئے ہیں اور مجھ کو فانی کرنے اور زندہ