خطبة اِلہامِیّة — Page 41
خطبه الهاميه ۴۱ تلوار کا کوئی جہاد نہیں۔ہماری طرف سے امان اور صلح کاری کا سفید جھنڈا بلند کیا گیا ہے۔خدا تعالی کی طرف دعوت کرنے کی ایک راہ نہیں۔پس جس راہ پر نادان لوگ اعتراض کر چکے ہیں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت نہیں چاہتی کہ اُسی راہ کو پھر اختیار کیا جائے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے جن نشانوں کی پہلے تکذیب ہو چکی چکی وہ ہمارے سید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیئے گئے۔لہذا مسیح موعود اپنی فوج کو اس ممنوع مقام سے پیچھے ہٹ جانے کا حکم دیتا ہے جو ہدی کا ہدی کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اپنے تئیں شریر کے حملہ سے بچاؤ مگر خودش بیرانہ مقابلہ مت کرو۔جوشخص ایک شخص کو اس غرض سے تلخ دوا دیتا ہے کہ تا وہ اچھا ہو جائے وہ اس سے نیکی کرتا ہے ایسے آدمی کی نسبت ہم نہیں کہتے کہ اس نے بدی کا بدی سے مقابلہ کیا۔ہر ایک نیکی اور بدی نیت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔پس چاہیے کہ تمہاری نیت کبھی ناپاک نہ ہو تا تم فرشتوں کی طرح ہو جاؤ۔یہ اشتہار منارہ کے بننے کے لئے لکھا گیا ہے مگر یادر ہے کہ مسجد کی بعض جگہ کی عمارات بھی ابھی نادرست ہیں اس لئے یہ قرار پایا ہے کہ جو کچھ منارۃ اسیح کے مصارف میں سے بچے گا وہ مسجد کی دوسری عمارت پر لگا دیا جائے گا۔یہ کام بہت جلدی کا ہے۔دلوں کو کھولو اور خدا کو راضی کرو۔یہ روپیہ بہت سی برکتیں ساتھ لے کر پھر آپ لوگوں کی طرف واپس آئے گا میں اس سے زیادہ کہنا نہیں چاہتا۔اور ختم کرتا ہوں اور خدا کے سپرد۔