خطبة اِلہامِیّة — Page 40
خطبه الهاميه بلکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس منارہ سے اُس مسجد اقصٰی کا منارہ مُرادلیا ہے جو دمشق سے شرقی طرف واقع ہے یعنی مسیح موعود کی مسجد جو حال میں وسیع کی گئی ہے اور عمارت بھی زیادہ کی گئی اور یہ مسجد فی الحقیقت دمشق سے شرقی طرف واقع ہے۔اور یہ مسجد صرف اس غرض سے وسیع کی گئی اور بنائی گئی ہے کہ تا دمشقی مفاسد کی اصلاح کرے۔اور یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تسلیم کی گئی۔اور اس منارة امسیح کا خرچ دس ہزار روپیہ سے کم نہیں ہے۔اب جو دوست اس منارہ کی تعمیر کے لئے مدد کریں گے میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ وہ ایک بھاری خدمت کو انجام دیں گے۔اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ ایسے موقع پر خرچ کرنا ہرگز ہرگز ان کے نقصان کا باعث نہیں ہوگا۔وہ خدا کو قرض دیں گے اور مع سود واپس لیں گے۔کاش ان کے دل سمجھیں کہ اس کام کی خدا کے نزدیک کس قدر عظمت ہے۔جس خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے اُس نے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا ہے کہ اسلام کی مُردہ حالت میں اسی جگہ سے زندگی کی رُوح پھونکی جائے گی اور یہ فتح نمایاں کا میدان ہوگا۔مگر یہ فتح اُن ہتھیاروں کے ساتھ نہیں ہوگی جو انسان بناتے ہیں بلکہ آسمانی حربہ کے ساتھ ہے جس حربہ سے فرشتے کام لیتے ہیں۔آج سے انسانی جہاد جو تلوار سے کیا جاتا تھا خدا کے حکم کے ساتھ بند کیا گیا۔اب اس کے بعد جو شخص کا فر پر تلوار اُٹھاتا ہے اور اپنا نام غازی رکھتا ہے وہ اُس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتا ہے جس نے آج سے تیرہ سو برس پہلے فرما دیا ہے کہ مسیح موعود کے آنے پر تمام تلوار کے جہاد ختم ہو جائیں گے۔سواب میرے ظہور کے بعد