خطبة اِلہامِیّة — Page 252
خطبة الهامية ۲۵۲ اردو ترجمہ وقد زاد عـلـى تلك المدة إلى ہیں اور اس مدت پر ہمارے اس دن تک يومنا هذا ثلاث مائة بعد الألف، تیرہ سو سال مزید گزرچکے ہیں۔اور جب ہم وإذا جمعناهما فهو ستة آلاف ان دونوں مدتوں کو جمع کریں تو یہ چھ ہزار كماهو مذهب المحققين سال بن جاتے ہیں جیسا کہ سابق محققین کا من السلف۔ومن ههنا ثبت أن تــولــدى فـــي آخر الألف مذہب ہے۔یہاں سے ثابت ہوا کہ میری چھٹے ہزار کے آخر پر پیدائش آدم کی چھٹے السادس يضاهي خلقه آدم دن میں پیدائش سے مشابہ ہے اور کوئی شک في اليوم السادس ولا شک۔أن المبعوث في آخر ألفِ نہیں کہ موت کے ہزار (سال) کے آخر پر مبعوث کئے جانے والے کا نام رحمن خدا کے حضور الموت سُمّى بآدم عند الرحمن فكان من أسرار حکمةِ الله آدم رکھا گیا ہے۔پس یہ اللہ کی حکمت کے بھیدوں أنه خلقنی فی آخر الألف میں سے ہے کہ اس نے مجھے چھٹے ہزار کے آخر میں السادس ليشابه خَلْقی خَلْقَ آدم پیدا کیا تا میری پیدائش اس اعتبار سے آدم کی بهذا العنوان۔وكان هذا وعدًا پيدائش کے مشابہ ہو جائے اور یہ حکمتوں مقدرا من الله ذی الحکم والے اور طرح طرح کی صفات والے اللہ کی والفنون، وإليه أشار في قوله طرف سے ایک مقدر وعدہ تھا۔اسی کی طرف اس نے وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَرَبَّكَ كَالْفِ اپنے قول۔وَإِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ وإِن زمان سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ لے میں اشارہ فرمایا ہے۔خـلـقـى ألف سادس لا ريب فيه، يقيناً میری پیدائش کا زمانہ چھٹا ہزار ہے۔اس میں فاسأل الذين يعلمون ونطق کوئی شک نہیں۔پس اہل علم سے پوچھو۔یہ بات به التوراة التي يؤمن بها تورات نے بھی بیان کی ہے جسے مسلمان بھی مانتے المسلمون، ولم يُثبت بنصوص ہیں۔جو کچھ ان اعداد و شمار کے برخلاف ہے وہ ایک دن خدا کا ایسا ہے جیسا تمہارا ہزار برس۔(الحج: ۴۸)