خطبة اِلہامِیّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 246 of 265

خطبة اِلہامِیّة — Page 246

خطبة الهامية ۲۴۶ اردو ترجمہ جاوز ضعفه إلى هذا العصر، فما اس کے دگنے زمانہ سے بھی بڑھ گیا ہے۔پس اس معنى العصر نسبةً إلى الزمان مذكور زمانہ كى نسبت سے عصر کے بیان شدہ معنے المذكور؟ بل ليس هذا البيان إلا کیسے درست ہوں گے بلکہ یہ بیان کھلا کھلا خلاف كذبا فاحشا و من أشنع أنواع واقعہ اور جھوٹ کی انواع میں سے بدترین ہے اور الزور، بل ذيل الاعتراض أطولُ اعتراض کا دامن تو اس ممنوع حد سے بھی آگے من هذا المحذور۔۔فإن نبا نزول بڑھ گیا ہے کیونکہ نزول عیسی " ، خروج دجال اور عيسى وخروج الدجال ويأجوج ياجوج و ماجوج کے نکلنے کی خبر جس کا اکثر عوام ومأجوج الذي ينتظره كثير من الناس انتظار کر رہے ہیں۔اس کا جھوٹ اس ذکر العامة قد ثبت كذبه بهذا الإيراد سے بالبداہت اور بالضرورت ثابت ہو جاتا ہے بالبداهة وبالضرورة، فإن وقت كيونكہ عصر کا وقت گزر چکا بلکہ ملت موسویہ کے العصر قد مضى بل انقضی زمانہ کے تناظر میں بغیر کسی شک وشبہ کے اس سے ضعفاه من غير الشك و الشبهة چار گنا وقت گزر چکا ہے۔پس ان پیشگوئیوں کے نظرًا إلى زمان الملة الموسوية، ظہور کے لئے اب کوئی وقت باقی نہیں رہ گیا اور فما بقى لظهور هذه الأنباء ان خبروں کے منتظر یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ وقت، واضطر المنتظرون إلى أن سب خبریں در حقیقت بالکل جھوٹ ہیں اور ان کی يقولوا إنها باطلة في الحقيقة۔و تصدیق کا کوئی راستہ باقی نہیں رہا سوائے اس ما بقى سبيل لتصديقها إلا ان کے کہ یہ کہا جائے کہ یہ پیشگوئیاں پوری ہو چکی يقال إن هذه الأخبار قد وقعت ہیں اور نازل ہونے والا عیسی نازل ہو چکا نیز وقد نزل عيسى النازل، وخرج دجال کا خروج بھی ہو چکا اور یا جوج و ماجوج الدجال الخارج، وظهر يأجوج بھی ظاہر ہو گئے اور ان کا دنیا میں پھیل جانا اور ومأجوج وتحقق النسل ان کا پھلانگنا اور ان کا عروج پورا ہو گیا۔اور والـعـروج، وتمت الأخبار التي وه تمام خبریں پوری ہو گئیں جو مقدر تھیں