خطبة اِلہامِیّة — Page 16
خطبة الهاميه ۱۶ اردو ترجمہ والنكاح و مسائل اخرای ان کے ہاتھوں میں تو رات کو ویسے ہی دیکھتا والنصارى يُقِرُّون به ولذالک ہے جیسے انجیل کو۔اور ان کے بعض فرقے یہ ترى التورات فى ايديهم كما کہتے ہیں کہ عیسی کے خون کے کفارہ کے ذریعے ترى الانجيل وقال بعض فرقهم ہم تو ریت کی شریعت کے بوجھوں سے نجات وج بقية الحاشية - الا القرآن۔ثم بقیہ حاشیہ۔اپنے پہلے قول کو بھول گیا اور یہود و ینسی قوله الاول ويامر كل نصاری کے ہر فرقے کو حکم دینے لگا کہ وہ اپنی اپنی فرقة من اليهود والنصارى ان شرائع پر قائم رہیں اور اپنی کتابوں کو مضبوطی سے يثبتوا على شرائعهم ويتمسكوا بكتبهم ويكفيهم هذا لنجاتهم تھامے رکھیں اور ان کی نجات کے لئے ان کے وان هذا الاجمع الضدين لئے یہی کافی ہے۔حالانکہ یہ تو محض اجتماع ضدین واختلاف في القرآن والله نزّہ اور قرآن میں اختلاف ہے اور اللہ نے اپنے كتابه عن الاختلاف بقوله قول وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا لے۔میں اپنی لَوَجَدُوا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا - بل الأيت التي حَرَّف المُعتَرِض کتاب کو اختلاف سے منزہ قرار دیا ہے۔بلکہ وہ معناها كمثل اليهود تشير الى ان آیات جن کے معنی میں معترض نے یہود کی طرح بشارت نبينا صلى اللہ علیہ وسلم تحریف کی ہے وہ اشارہ کرتی ہیں کہ ہمارے نبی كانت موجودة في التورات صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشخبری تو رات اور والانجيل فكان الله يقول مالهم انجیل میں موجود تھی گویا خدا تعالیٰ یہ فرما رہا ہے لا يعملون على وصايا التوراة و کہ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ یہ تورات اور انجیل الانجيل ولايسـلـمـون۔نعم لو كانت عبارة القرآن بصيغة الماضي کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور نہ فرمانبرداری ولـم يـقـل وَلْيَحْكُم بل قال وكان کرتے ہیں۔ہاں اگر قرآن کی عبارت ماضی کے النصارى يحكمون بالانجيل فقط صیغہ میں ہوتی اور اللہ وَلْيَحْكُمُ“ نہ فرماتا لے اور اگر وہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پایا جا تا۔(النساء: ۳۸)