خطبة اِلہامِیّة — Page 198
خطبة الهامية ۱۹۸ اردو ترجمہ مما لا يليق بشأن حضرة ہوتا۔اور یہ امر تو ان میں سے ہے جو حضرت التقدّس و العزّة۔هذا هو رب العزت کے شایان شان نہیں۔اور یہی الحق الذي قال الله ذو الجلال حق ہے جو خدائے ذوالجلال نے فرمایا فماذا بعد الحق إلا الضلال؟ ہے۔پس حق کو چھوڑ کر گمراہی کے سوا وأما عيسى الذى هو صاحب اور کیا ہے۔اور جہاں تک اُس عیسی الإنجيل فقدمات وشهد عليه کا تعلق ہے جو صاحب انجیل انجیل ہے تو وہ ربنا في كتابه الجليل، وما فوت ہو چکا اور ہمارا رب اپنی کتاب كان له أن يعود إلى الدنيا جلیل میں اس پر گواہی ويكون خاتم الأنبياء ، وقد ہے۔اُس عیسی کے لئے ممکن نہیں کہ دنیا ختمت النبوة علی نبینا صلى الله میں واپس آئے اور خاتم الانبیاء بن دے ﷺ چکا عليه وسلم، فلا نبی بعده جائے جب کہ نبوت ہمارے نبی إلا الذي نُورَ بنوره و جعل ختم کر دی گئی ہے۔پس آپ کے بعد وارثه من حضرة الكبرياء۔کوئی نبی نہیں سوائے اس کے جو آپ اعلموا أن الختمية أُعطيت کے نور سے منور ہو اور حضرت کبریا کی من الأزل لمحمد صلى الله جناب سے آپ کا وارث بنایا عليه وسلم، ثم أُعطيت لمن جائے۔جان لو کہ مقام حتمیت ازل علمه روحه وجعله ظله سے محمد ﷺ کو عطا کیا گیا ہے۔پھر ا سے فتبارک من علم و تعلیم دیا گیا جسے آپ کی روح نے تعلیم دی اور فإن الختمية الحقيقية اسے اپنا ظِل بنالیا۔پس بڑا مبارک وہ كانت مقدرة في الألف السادس ہے جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی ہو الحاشية - هذه اشارة الى حاشیہ۔یہ اللہ کی اس وحی کی طرف اشارہ وحـي مـن الـلـه كُتب في البراهين ہے جو براہین احمد یہ میں لکھی گئی ہے اور اس۔ا